اردوEnglish
ہفتہ, 17 اکتوبر 2026
  • Home  
  • پشاور میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے بچوں سمیت 35 جاں بحق، 35 سے زائد زخمی
- دنیا

پشاور میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے بچوں سمیت 35 جاں بحق، 35 سے زائد زخمی

پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے 17 بچے جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہوگئے۔ امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے بچوں اور اسکول عملے کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اردو رپورٹ ڈیسک

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت اچانک گرنے سے کم از کم بچوں سمیت 35 جاں بحق اور 52 سے زائد زخمی ہوگئے۔ زخمی بچوں کو علاج کے لیے لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے دیر کالونی میں ایک نجی اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 35 افراد جاں بحق ہو گئے، جن میں 33 بچے اور دو اساتذہ شامل ہیں، جبکہ 52 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور پولیس نے اسکول کے مالک کو حراست میں لے لیا ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق صبح 8 بج کر 48 منٹ پر اطلاع موصول ہونے کے بعد امدادی ٹیمیں پانچ منٹ میں جائے وقوعہ پر پہنچ گئی تھیں۔ جاں بحق افراد کی لاشیں لیڈی ریڈنگ اسپتال اور نصیر اللہ بابر میموریل اسپتال منتقل کی گئیں۔ اس واقعے نے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی ساختی سلامتی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے بھر کے تمام تعلیمی اداروں کا اسٹرکچرل سیفٹی آڈٹ کرانے کا حکم دیتے ہوئے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی۔ پاک فوج کے اہلکاروں نے دیگر امدادی اداروں کے ساتھ مل کر ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے میں حصہ لیا۔ حکام واقعے کی وجوہات کا تعین کرنے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے لیے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

گذشتہ سے پیوستہ

اسپتال انتظامیہ کے مطابق اب تک 17 بچوں کو مردہ حالت میں لایا گیا ہے، جبکہ امدادی حکام کا کہنا ہے کہ 25 سے زائد زخمی بچوں کو فوری طبی امداد کے لیے اسپتال کے ہنگامی شعبے میں منتقل کیا گیا۔

ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری

حادثے کے فوراً بعد ریسکیو 1122 کے اہلکاروں اور مقامی افراد نے ملبہ ہٹانے کا کام شروع کردیا تاکہ عمارت میں پھنسے بچوں اور اسکول کے عملے کو باہر نکالا جا سکے۔

امدادی ٹیمیں بھاری مشینری کی مدد سے ملبے میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش اور متاثرین کو نکالنے میں مصروف ہیں۔ حکام نے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

ثمر ہارون بلور کا اظہارِ افسوس

صوبائی مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے اسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ زخمی بچوں کو بروقت اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

ثمر ہارون بلور نے امدادی اہلکاروں کی فوری کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت ملبے تلے دبے افراد کو بحفاظت نکالنے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کر رہی ہے۔

اسکولوں میں پیش آنے والے دیگر المناک حادثات

پشاور کا یہ واقعہ رواں سال پاکستان میں تعلیمی اداروں کی عمارتوں سے متعلق پیش آنے والے متعدد مہلک حادثات میں شامل ہے۔ ان واقعات نے عمارتوں کی تعمیر اور دیکھ بھال کے معیار پر سوالات اٹھائے ہیں۔

21 فروری کو سیالکوٹ میں زیرِ تعمیر سرکاری گرلز ہائی اسکول کا شیڈ گرنے سے آٹھویں جماعت کی ایک طالبہ جاں بحق ہوگئی تھی۔

7 مئی کو ڈیرہ غازی خان میں نجی اسکول کے ایک کمرے کی چھت گرنے سے چار طلبہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

30 جون کو لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق ہوئے تھے، جبکہ 2 جولائی کو لاہور ہی کے علاقے باغبانپورہ میں زیرِ تعمیر اسکول کی عمارت کا ایک حصہ گرنے سے آٹھ سالہ بچہ جان سے گیا تھا۔

پشاور کے تازہ واقعے نے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت اور طلبہ کو ایسے حادثات سے بچانے کے لیے مناسب تعمیر اور دیکھ بھال کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کردیا ہے۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!