اردو رپورٹ ڈیسک
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے دوران درج مقدمات میں گرفتار تمام کارکنان کو مقدمات سے خارج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
عدالت کے اس فیصلے کا اطلاق تھانہ شالیمار اور تھانہ سیکریٹریٹ میں درج مقدمات میں شناخت پریڈ کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجے گئے کارکنان پر ہوگا، جس سے ان کی رہائی کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
پولیس کی مزید مہلت کی درخواست مسترد
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے ہفتے کو مقدمات کی سماعت کی، جس کے دوران پی ٹی آئی کے وکلا اور تفتیشی ٹیم نے اپنے دلائل پیش کیے۔
سماعت کے آغاز پر تفتیشی افسر نے ملزمان کی شناخت پریڈ کرانے کے لیے مزید مہلت طلب کی، تاہم پی ٹی آئی کے وکلا نے اس درخواست پر سخت اعتراض کیا۔
کارکنان کی طویل حراست پر وکلا کے اعتراضات
پی ٹی آئی کے وکیل سردار محمد مصروف نے مؤقف اختیار کیا کہ کارکنان کی گرفتاری کو 40 روز سے زائد گزر چکے ہیں، لیکن پولیس ہر سماعت پر مزید مہلت طلب کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ گرفتار کارکنان کو عدالت میں پیش نہیں کیا جا رہا۔
وکیل مرتضیٰ طوری اور زاہد بشیر ڈار نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ تمام کارکنان بے گناہ ہیں۔ ان کا الزام تھا کہ پولیس کسی بھی شہری کو گرفتار کرکے اسے پی ٹی آئی کا کارکن ظاہر کر سکتی ہے۔
وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ اس کے گزشتہ حکم پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
عدالت کا کارکنان کو مقدمات سے خارج کرنے کا حکم
دلائل سننے کے بعد عدالت نے وکلا صفائی کی استدعا منظور کرتے ہوئے پولیس کی مزید مہلت کی درخواست مسترد کر دی۔
عدالت نے تھانہ شالیمار اور تھانہ سیکریٹریٹ میں درج مقدمات میں شناخت پریڈ کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجے گئے پی ٹی آئی کے تمام کارکنان کو مقدمات سے خارج کرنے کا باضابطہ حکم جاری کردیا۔


