اسلام آباد میں یومِ آزادی کے موقع پر منعقدہ پریڈ اس وقت تنقید کی زد میں آگئی جب مہمانِ خصوصی کی آمد سے قبل چیئرمین کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور آئی جی اسلام آباد کو شاہی بگھی میں تقریب کے مقام پر داخل ہوتے دیکھا گیا وہاں پر موجود افراد نے ان کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دیں اور افسران کے جمہوری دور مین اس شاہانہ انداز کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
14 اگست کو ڈی چوک میں ہونے والی اسلام آباد سٹی پریڈ کا آغاز شام پانچ بجے ہونا تھا، تاہم تقریب تقریباً ایک گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوئی۔ مہمانِ خصوصی سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی آمد میں تاخیر کے دوران چیئرمین سی ڈی اے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل سہیل اشرف اور آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی شاہی بگھی میں پریڈ گراؤنڈ پہنچے۔
تالیاں بجانے کی اپیلیں
تقریب کے میزبان نے دونوں افسران کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے شرکا سے تالیاں بجانے کی اپیل بھی کی سپیکر پر یہ اعلان ہوتے رہے کہ ان شاہی بگھی میں سوار افسران کے لیے تالیاں بجا کر استقبال کیا جائے۔ بگھی کے رکنے پر آئی جی اسلام آباد نے حاضرین کی جانب سلام کیا، جبکہ دونوں افسران کا استقبال دیگر اعلیٰ انتظامی و پولیس افسران نے کیا۔
بعد ازاں مہمانِ خصوصی سردار ایاز صادق اپنی گاڑی میں تقریب میں پہنچے، حالانکہ شاہی بگھی بظاہر ان کی آمد کے لیے مختص کی گئی تھی۔
محسن نقوی کی وضاحتیں
اسلام آباد پریڈ گراوند میں 14 اگست کی تقریب مین آئی جی اسلام آباد اور چیرمین سی ڈی اے کی بگھی پر شاہانہ انداز مین آمد شدید تنقید کی زد میں: pic.twitter.com/IsNYKN0GfA
— Tariq Iqbal Chaudhry (@ChoudhryTariq) August 16, 2026
واقعے پر سوشل میڈیا پر بحث شروع ہونے کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک وضاحت جاری کی۔ ان کے مطابق صدرِ مملکت کی وزیراعظم سے ملاقات کے باعث مہمانِ خصوصی اور انہیں تقریب میں پہنچنے میں تاخیر ہوئی۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ چونکہ عوام شام پانچ بجے سے تقریب کے منتظر تھے، اس لیے تقریباً چھ بجے یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان کی آمد کا مزید انتظار کرنے کے بجائے پروگرام شروع کر دیا جائے۔
وزیر داخلہ کے مطابق ان کے نزدیک دونوں افسران اس معاملے میں قصوروار نہیں تھے بلکہ انہیں خود پروگرام آگے بڑھانے کی ہدایت دی گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں افسران نے ابتدا میں مہمانِ خصوصی کی عدم موجودگی میں تقریب شروع کرنے پر ہچکچاہٹ ظاہر کی، تاہم عوام کو مزید انتظار سے بچانے کے لیے انہیں تقریب کا آغاز کرنے کو کہا گیا۔
سوشل میڈیا پر شدید ردعمل
شاہی بگھی میں دونوں افسران کی آمد کی ویڈیوز اور تصاویر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے اسے سرکاری عہدوں کے غیر ضروری شاہانہ اظہار سے تعبیر کیا اور اس انداز پر شدید تنقید کی۔
بعض صارفین نے سوال اٹھایا کہ جب تقریب کے مہمانِ خصوصی ایک منتخب آئینی عہدیدار تھے تو شاہی بگھی کا استعمال غیر منتخب سرکاری افسران کے لیے کیوں کیا گیا۔
برطانوی نوآبادیاتی دور
کچھ ناقدین نے اس منظر کو برطانوی نوآبادیاتی دور کی طرزِ حکمرانی سے تشبیہ دی کہ اب بھی اس جمہوری دور مین افسران کا یہ شاہانہ انداز جاری ہے انگریزی تو چلا گیا مگر اپنا ورثہ چھوڑ گیا۔
، جبکہ بعض نے طنزیہ انداز میں دونوں افسران کو ’وائسرائے‘ قرار دیا۔ ناقدین کے مطابق یومِ آزادی کی تقریب میں ایسی علامتیں عوامی خدمت کے بجائے طاقت اور اختیار کے اظہار کا تاثر پیدا کرتی ہیں۔
دوسری جانب وزیر داخلہ کی وضاحت کے مطابق اصل مقصد تقریب میں تاخیر ختم کرنا اور بڑی تعداد میں موجود شہریوں کو مزید انتظار سے بچانا تھا۔
اب تک سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف یا آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی الگ وضاحت سامنے نہیں آئی۔


