شیخوپورہ: انڈیا سے سکھ یاتریوں کے جتھے کے ساتھ پاکستان آ کر شادی کرنے والی خاتون سربجیت کور (نور فاطمہ) جمعرات کی صبح اپنے شوہر کے گھر شیخوپورہ پہنچ گئیں۔ انہیں گزشتہ بدھ کی رات ویمن شیلٹر ہوم (دارالامان) لاہور سے ریلیز کیا گیا تھا۔
دارالامان سے رہائی کیسے ممکن ہوئی؟
سربجیت کور کے وکیل احمد حسن پاشا کے مطابق متروکہ وقف املاک بورڈ نے انہیں گھر جانے کی اجازت دی، جس کے بعد بدھ کی شب دارالامان لاہور سے رہائی عمل میں آئی۔
قبل ازیں متروکہ وقف املاک کے نوٹیفکیشن میں وزارت خارجہ پاکستان کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ سربجیت کور کو سیاسی بنیادوں پر ڈی پورٹ نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان میں رہنے کا فیصلہ
اسلام قبول کرنے کے بعد نور فاطمہ نام اختیار کرنے والی سربجیت کور نے کہا ہے کہ وہ اپنی باقی ماندہ زندگی پاکستان میں ہی خوشی خوشی گزارنا چاہتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا:
"میں اور ناصر سچا پیار کرتے ہیں، اگر آپ سچا پیار کرتے ہیں تو آپ کو یقین ہوتا ہے کہ آپ ضرور ملیں گے۔”
سربجیت کور کب پاکستان آئیں؟
یاد رہے کہ سربجیت کور چار نومبر کو سکھ یاتریوں کے ہمراہ پاکستان آئی تھیں۔ ان کے ویزے کی معیاد 13 نومبر تک تھی، تاہم قیام کے دوران انہوں نے اسلام قبول کر کے اپنا نام نور فاطمہ رکھ لیا۔
بعد ازاں انہوں نے شیخوپورہ کے رہائشی ناصر حسین سے شادی کر لی اور واپس انڈیا نہیں گئیں۔
حراست اور ڈی پورٹیشن کی کوشش
چار جنوری کو انہیں ضلع ننکانہ صاحب کے علاقے سے تحویل میں لے کر لاہور کے ویمن شیلٹر ہوم منتقل کر دیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق انہیں واہگہ بارڈر کے راستے انڈیا ڈی پورٹ کرنے کی تیاریاں بھی کی جا رہی تھیں، تاہم آخری لمحات میں انہوں نے واپس جانے سے انکار کر دیا، جس کے بعد ڈی پورٹیشن کا عمل عارضی طور پر روک دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئیے

