اردو رپورٹ ڈیسک
اسلام آباد: سرحد یونیورسٹی اسلام آباد میں طلبہ اور لیفٹیننٹ کرنل رینک کے ایک فوجی افسر کے درمیان مبینہ جھگڑے، ہاتھا پائی اور ہوائی فائرنگ کے واقعے کی پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
پولیس نے واقعے کو روزنامچے میں درج کرتے ہوئے اسے سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنا لیا ہے۔ حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ واقعے میں ملوث افراد اور حالات کی درست تفصیل سامنے آسکے۔
وفاقی پولیس کے مطابق روزنامچے میں اندراج کے بعد شواہد کا جائزہ لے کر ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر اس معاملے کو باقاعدہ مقدمے میں بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
فوجی افسر کی حوالگی
پولیس کے مطابق واقعے میں ملوث فوجی افسر کو ابتدائی طور پر حفاظتی تحویل میں لے کر فوج کے متعلقہ حکام کے حوالے کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق فوجی سطح پر بھی معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور افسر کے خلاف محکمانہ کارروائی کا امکان ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق تنازع کا آغاز یونیورسٹی کے ایک شعبہ سربراہ اور فوجی افسر کی اہلیہ، جو ادارے میں ہیومن ریسورسز کی ڈائریکٹر ہیں، کے درمیان پیدا ہونے والے اختلاف سے ہوا تھا۔
حراسگی کی درخواست
پولیس کے مطابق خاتون نے چند روز قبل یونیورسٹی کے ایک ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کے خلاف مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور دھمکیاں دینے کی شکایت دی تھی۔ بعد میں فریقین کے درمیان معاملہ طے ہونے اور تحریری معذرت کے بعد خاتون نے پولیس سے مزید کارروائی نہ کرنے کی درخواست بھی کی تھی۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق اس معاملے کی اندرونی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ پہلے سے ختم کیے گئے تنازع نے دوبارہ شدت کیسے اختیار کی اور طلبہ اس معاملے میں کس طرح شامل ہوئے۔
واقعہ کے روز کیا ہوا؟
واقعے کے روز طلبہ یونیورسٹی میں احتجاج کر رہے تھے۔ انتظامیہ کے مطابق اسی دوران فوجی افسر کی اہلیہ بھی وہاں موجود تھیں۔ صورتحال کشیدہ ہونے پر انہوں نے اپنے شوہر کو بلایا۔
یونیورسٹی کے ایک اہلکار کے مطابق فوجی افسر اپنی اہلیہ کو وہاں سے لے جانے کی کوشش کر رہے تھے کہ بعض طلبہ کی جانب سے مبینہ طور پر آوازیں کسنے کے بعد دوبارہ تلخ کلامی شروع ہوگئی۔ اس دوران ہاتھا پائی ہوئی اور بعد میں فوجی افسر کی جانب سے ہوائی فائرنگ کیے جانے کا دعویٰ سامنے آیا۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے ایک ملازم کے مطابق فوجی افسر کے ہاتھ میں ایک چھڑی بھی تھی جس سے بعض طلبہ کو مبینہ طور پر مارا گیا۔ تاہم واقعے سے متعلق سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
سرحد یونیورسٹی کی ایک اور ویڈیو،خاتون پولیس اہلکار سے چھڑی چھینتے ہوئے۔ pic.twitter.com/Ubq8H9km7u
— Tariq Iqbal Chaudhry (@ChoudhryTariq) August 26, 2026
طلبہ کا احتجاج
ہوائی فائرنگ کے بعد طلبہ یونیورسٹی سے باہر نکل آئے اور جی ٹی روڈ پر احتجاج کرتے ہوئے ٹریفک روک دی۔ پولیس حکام نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین سے مذاکرات کیے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔
اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تمام دستیاب ویڈیوز، بیانات اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب عسکری ذرائع کے مطابق فوج کی اعلیٰ قیادت نے واقعے کا نوٹس لیا ہے اور قانون کی خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
سرحد یونیورسٹی انتظامیہ نے بھی واقعے کے خلاف متعلقہ پولیس اسٹیشن میں درخواست جمع کرانے کی تصدیق کی ہے۔


