اسپین کی حکومت نے سرکاری گزٹ کے مطابق اس رائی ل میں اپنے سفیر کو واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تنقید کی ہے۔
یہ اقدام بدھ کے روز سامنے آیا ہے، جب کہ اسپین یورپی یونین کے ان چند ممالک میں سے ہے جو غ زہ میں نسل کش جنگ اور ایران پر شروع کی گئی نئی جنگ کے سب سے سخت ناقد رہے ہیں۔
سرکاری گزٹ میں کہا گیا:
"وزیرِ خارجہ، یورپی یونین اور تعاون کی تجویز پر اور 10 مارچ 2026 کو کابینہ کے اجلاس میں غور و خوض کے بعد، میں یہاں اعلان کرتا ہوں کہ محترمہ آنا ماریا سالومون پِریز کی بطور اسپین کی اس رائی ل میں سفیر تقرری ختم کی جاتی ہے۔”
وزارتِ خارجہ کے ایک ذریعے کے مطابق، ت ل، اب ی ب میں اسپین کے سفارت خانے کی سربراہی اب چارج ڈی اَفیرز کریں گے۔
ملک کے وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز یورپ کے چند بائیں بازو کے رہنماؤں میں سے ایک ہیں جنہوں نے ایران پر امریکہ کے حملے کو "ناقابلِ جواز” قرار دیا اور کہا کہ "میڈرڈ کی پوزیشن: جنگ نہیں”۔
سانچیز کی حکومت یورپ کے ان چند ممالک میں سے بھی ہے جنہوں نے مستقل طور پر غ زہ میں اس رائ یل کی کارروائی کی مذمت کی۔
اکتوبر میں اسپین کی پارلیمنٹ نے فیصلہ کی کہ اسپین ہمیشہ کے لیے اس رائ ی ل کو ہتھیار، دوہری استعمال کی ٹیکنالوجی اور فوجی سامان فروخت نہیں کرے گا، تاکہ نسل کشی کے ردعمل میں قانونی پابندی قائم کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھئِے


