اردو رپورٹ ڈیسک
امریکی اداکارہ سڈنی سوینی کے جوئے کی ایپ سے متعلق متنازع اشتہار پر دنیا بھر کی خواتین کھلاڑیوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
آن لائن وائرل ہونے والے اشتہار میں سڈنی سوینی کو برہنہ دکھایا گیا ہے، تاہم کھیلوں کے مختلف سامان سے ان کے جسم کے بعض حصے ڈھانپے گئے ہیں۔
خواتین کھلاڑیوں نے کھیلوں میں خواتین کو جنسی انداز میں پیش کرنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پہچان ظاہری شکل نہیں بلکہ محنت، صلاحیت اور کامیابی ہونی چاہیے۔
خواتین کھلاڑیوں کا ردعمل
امریکی جمناسٹ گریسی کریمر نے اپنی تربیت کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’مجھے نہیں معلوم سڈنی سوینی کیا کر رہی تھیں، لیکن کھیلوں میں خواتین ایسی دکھائی دیتی ہیں۔‘
ان کی پوسٹ کے بعد مختلف کھیلوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کھلاڑیوں نے اپنی تربیت اور مقابلوں کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں۔
آسٹریلیا کی چار مرتبہ اولمپک سوئمنگ چیمپیئن آریان ٹٹمس نے اشتہار کو ان خواتین کی توہین قرار دیا جنہوں نے اپنی صلاحیتیں بہتر بنانے کے لیے زندگی وقف کر دی۔
برطانوی اولمپک چیمپیئن سوفی کیپویل اور دیگر کھلاڑیوں نے بھی کہا کہ خواتین کے کھیلوں کو ان کی کارکردگی کے بجائے جسمانی کشش کے ذریعے پیش کرنا درست نہیں۔
جسمانی ساخت سے متعلق خدشات
انگلینڈ کی رگبی کھلاڑی الیکس میتھیوز نے کہا کہ ایسے اشتہارات نوجوان خواتین کو یہ تاثر نہیں دینے چاہییں کہ جسم کی صرف ایک ہی مناسب ساخت ہوتی ہے۔
ان کے مطابق مختلف جسمانی ساخت رکھنے والی کھلاڑیوں کی اپنی الگ طاقت ہوتی ہے اور کھیلوں میں کامیابی کا تعلق ظاہری شکل سے نہیں ہوتا۔
سڈنی سوینی کا ردعمل
سڈنی سوینی نے تنقید پر براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم انہوں نے سوشل میڈیا پر دیگر کھلاڑیوں کی محدود لباس یا برہنہ تصاویر شیئر کیں، جن میں سرینا ولیمز، رونڈا روزی، مائلز گیریٹ اور کارل انتھونی ٹاؤنز بھی شامل تھے۔
ان پوسٹس سے بظاہر یہ تاثر ملا کہ سوینی اپنے اشتہار پر ہونے والے ردعمل کو دوہرے معیار سے تعبیر کر رہی ہیں۔


