امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی مفاہمتی یادداشت اب مؤثر نہیں رہی اور ان کے مطابق جنگ بندی عملاً ختم ہو چکی ہے۔جبکہ صدر ٹرمپ نے آج رات ایران پر مزید سخت حملے کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔
بدھ کو انقرہ میں نیٹو سمٹ سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ Donald Trump نے ایران کی قیادت پر سخت تنقید کی۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انہوں نے کہا، "ذہنی بیمار لوگ ایران کی قیادت کر رہے ہیں۔ میں ان سے مزید بات نہیں کرنا چاہتا۔”
پاکستان کی ثالثی میں گزشتہ ماہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک عبوری جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا، جس کا مقصد مستقل امن معاہدے کے لیے 60 روزہ مذاکراتی مدت فراہم کرنا تھا۔ تاہم قطر میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات گزشتہ ہفتے کسی نمایاں پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئے، جس کے بعد امریکہ نے منگل کو ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیاں شروع کر دیں۔
عبوری معاہدہ
عبوری معاہدے کے تحت 22 جون کو امریکی محکمہ خزانہ نے ایک جنرل لائسنس جاری کیا تھا، جس کے ذریعے 21 اگست تک ایرانی خام تیل، پیٹروکیمیکل اور پٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم منگل کو یہ لائسنس منسوخ کرتے ہوئے امریکہ نے ایران کو 17 جولائی تک تمام متعلقہ لین دین ختم کرنے کی مہلت دے دی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جب صدر ٹرمپ سے جنگ بندی کے مستقبل کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا، "جہاں تک میرا تعلق ہے تو وہ ختم ہو چکی ہے۔” انہوں نے مزید کہا، "ان سے (ایران) بات کرنا وقت کا ضیاع ہے۔”
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد ایران میں 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
پاسداران انقلاب کا موقف
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ انہوں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران کے مطابق یہ حملے امریکی فضائی کارروائیوں کے ردعمل میں کیے گئے۔
حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جس سے خطے میں امن کی کوششوں کو ایک بار پھر دھچکا پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔


