واشنگٹن ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائی کے اخراجات، مدت اور حکمت عملی پر امریکی سینیٹ میں ٹرمپ انتظامیہ کو سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ایران جنگ پر امریکی سینیٹ میں سخت سوالات، 37.5 ارب ڈالر خرچ، ٹرمپ انتظامیہ پر واضح حکمت عملی نہ ہونے کی تنقید جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ جلد ہی ایران کے مشتبہ جوہری مرکز پک ایکس ماؤنٹین (Pickaxe Mountain) پر حملے کی منظوری دے سکتے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
سینیٹ کی اپروپریشنز کمیٹی کے اجلاس میں وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ (Pete Hegseth) سے جنگ کے مقاصد، کامیابی کے معیار اور اس کے اختتام سے متعلق متعدد سخت سوالات کیے گئے، تاہم وہ اراکین سینیٹ کو مطمئن نہ کر سکے۔
ریپبلکن سینیٹر جان کینیڈی (John Kennedy) نے سماعت کے دوران کہا کہ امریکی عوام جاننا چاہتے ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) کی ایران کے خلاف جنگ کب ختم ہوگی، اس پر کتنا خرچ آئے گا اور اس کا واضح مقصد کیا ہے، لیکن ان سوالات کے تسلی بخش جواب نہیں دیے گئے۔

وزیر دفاع تنقید کی زد میں
ڈیموکریٹ سینیٹر جان اوسوف (Jon Ossoff) نے بھی وزیر دفاع کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ جنگ کے چودھویں روز انتظامیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی فوجی صلاحیت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے، مگر اب اسی جنگ کے لیے مزید اربوں ڈالر مانگے جا رہے ہیں، جس سے حکومت کے دعووں پر سوالات اٹھتے ہیں۔
سماعت میں وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین (Gen. Dan Caine) نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے 87.6 ارب ڈالر کے اضافی بجٹ کی درخواست پیش کی، جس میں 67 ارب ڈالر سے زائد رقم جنگ اور محکمہ دفاع کے دیگر اخراجات کے لیے مختص کرنے کی تجویز دی گئی۔
وزیر دفاع نے بتایا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ پر اب تک 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ لڑائی کا دائرہ مزید وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے مزید امریکی فوجی ہلاک ہوئے جس کے بعد امریکی ہلاکتوں کی تعداد 18 ہو گئی، جبکہ جولائی کے آغاز سے اب تک تقریباً 100 امریکی اہلکار زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
آبنائے مرہز پر آمد ورفت معطل
ادھر ایران نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں بحری آمدورفت تقریباً معطل کر دی ہے، جبکہ یمن میں اس کے اتحادی حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر کے متبادل بحری راستوں کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
سماعت کے دوران وزیر دفاع نے کہا کہ امریکہ کا بنیادی مقصد ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے دینا ہے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس مقصد کے حصول کے بعد جنگ کب ختم ہوگی یا امریکی فوج کب واپس بلائی جائے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر گزشتہ سال امریکی حملوں نے واقعی ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا، تو پھر نئی جنگ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور اگر ایسا نہیں تھا تو اس کا مطلب ہے کہ امریکہ کو مستقبل میں بھی ایران کی جوہری سرگرمیوں کو روکنے کے لیے مسلسل فوجی کارروائیاں جاری رکھنا پڑ سکتی ہیں۔
ریپبلکن کی حمایت
اگرچہ وزیر دفاع نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا مستقبل میں امریکہ کے لیے مالی اور سکیورٹی لحاظ سے فائدہ مند ثابت ہوگا، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ عوام کو موجودہ معاشی مشکلات کے دوران اس دلیل سے مطمئن کرنا آسان نہیں ہوگا۔
مذید خبریں
دہلی : کاکروچ جنتر منتر سے نکل پڑے ، مودی کے لیے خطرے کی گھنٹی – urdureport.com
سماعت کے اختتام پر اگرچہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ٹرمپ انتظامیہ کی جنگی پالیسی کی حمایت جاری رکھی، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے لیے واضح ایگزٹ اسٹریٹیجی (Exit Strategy) سامنے نہ آنے کی صورت میں اس کے سیاسی اثرات آئندہ وسط مدتی انتخابات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔


