اسلام آباد / واشنگٹن: امریکہ نے پاکستان سمیت اپنے 60 بڑے تجارتی شراکت داروں کی درآمدی مصنوعات پر نئے محصولات (Tariffs) نافذ کر دیے ہیں، جن کا اطلاق جمعہ سے شروع ہو گیا ہے۔ امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام ان ممالک کی جانب سے جبری مشقت (Forced Labour) سے تیار ہونے والی مصنوعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات نہ کرنے کے باعث اٹھایا گیا ہے۔
نئے فیصلے کے تحت پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، چین، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا اور جاپان سمیت متعدد ممالک کی برآمدات پر 10 سے 12.5 فیصد تک اضافی ٹیرف لاگو کیا گیا ہے۔ جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ پاکستانی برآمد کنندگان (Exporters) مزدوروں کے حقوق سے متعلق عالمی ضوابط کی پابندی کر رہے ہیں، اس لیے پاکستان اپنا مؤقف امریکہ کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کرے گا۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر (Jamieson Greer) کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) کی ہدایت پر یہ اقدامات ایسے ممالک کے خلاف کیے جا رہے ہیں جو جبری مشقت سے تیار ہونے والی اشیا کی درآمد روکنے میں مؤثر قانون سازی یا عمل درآمد نہیں کر سکے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ نئی تجارتی پالیسی کا مقصد عالمی سطح پر انسانی حقوق کے تحفظ کو فروغ دینا، مزدوروں کے استحصال کی حوصلہ شکنی کرنا اور امریکی صنعت کو غیر منصفانہ مقابلے سے بچانا ہے۔

جبری مشقت کیا ہے ؟
جبری مشقت (Forced Labour) سے مراد ایسا کام ہے جو کسی شخص سے اس کی مرضی کے خلاف دھمکی، دباؤ، تشدد، قرض یا کسی اور جبر کے ذریعے کروایا جائے، اور وہ آزادانہ طور پر وہ کام چھوڑنے یا انکار کرنے کا اختیار نہ رکھتا ہو۔بین الاقوامی ادارہ International Labour Organization (ILO) کے مطابق جبری مشقت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک میں غیرقانونی ہے۔
پاکستانی برآمدات پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان کی وزارت تجارت (Ministry of Commerce) امریکی فیصلے کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے، جبکہ اس حوالے سے اعلیٰ سطح کا مشاورتی اجلاس بھی طلب کیے جانے کا امکان ہے۔
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت رانا احسان افضل (Rana Ehsan Afzal) نے کہا کہ امریکی ٹیرف پالیسی کا قانونی اور تجارتی پس منظر موجود ہے، تاہم پاکستان کا برآمدی شعبہ عالمی لیبر قوانین اور بین الاقوامی معیارات پر عمل کر رہا ہے۔تاہم ماہرین کی رائے ہے کہ امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، اس لیے اضافی ٹیرف سے ملکی برآمدات خصوصاً ٹیکسٹائل (Textiles) متاثر ہو سکتی ہیں۔
امریکہ پاکستان کا کتنا بڑا تجارتی شراکت دار ہے؟
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان نے امریکہ کو تقریباً 5.83 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات برآمد کیں، جبکہ امریکہ سے درآمدات کا حجم 1.74 ارب ڈالر رہا۔ اس طرح دوطرفہ تجارت میں پاکستان کو چار ارب ڈالر سے زائد کا تجارتی سرپلس (Trade Surplus) حاصل رہا۔
پاکستان کی امریکہ کو برآمد ہونے والی اشیا میں سب سے بڑا حصہ ٹیکسٹائل مصنوعات (Textile Products) کا ہے، جو مجموعی برآمدات کا تقریباً 90 فیصد بنتی ہیں۔ اس کے علاوہ چمڑے کی مصنوعات، کھیلوں کا سامان، فرنیچر، قالین، فٹ ویئر، سیمنٹ، نمک، پلاسٹک اور دیگر صنعتی مصنوعات بھی امریکہ بھیجی جاتی ہیں۔
مذید خبریں
امریکی سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ : ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف کالعدم – urdureport.com
امریکہ کا چینی مصنوعات پر اضافی 100فیصد ٹیرف لگانے کا فیصلہ – urdureport.com
دوسری جانب امریکہ سے پاکستان درآمد ہونے والی اشیا میں خام کپاس، مشینری، لوہا، اسٹیل، کیمیکلز، ادویات، بوائلرز اور دیگر صنعتی سامان شامل ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی نئی تجارتی حکمت عملی
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) اپنی تجارتی پالیسی میں درآمدی محصولات کو امریکی صنعت کے تحفظ کا اہم ذریعہ قرار دیتے رہے ہیں۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے بعض سابقہ ٹیرف کالعدم قرار دیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے Forced Labour کو بنیاد بنا کر نئی قانونی حکمت عملی اختیار کی ہے، جس کے تحت تازہ محصولات نافذ کیے گئے ہیں۔


