اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان آرمی میں اعلیٰ سطح پر اہم تقرری کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا (Lieutenant General Amir Raza) کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر کمانڈر نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ (Commander National Strategic Command) مقرر کر دیا ہے۔
وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف (Muhammad Shehbaz Sharif) نے ترقی اور نئی ذمہ داری کی منظوری دیتے ہوئے جنرل عامر رضا کو مبارک باد پیش کی اور اس اہم قومی منصب پر ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جنرل عامر رضا اس سے قبل چیف آف جنرل اسٹاف (Chief of General Staff – CGS) کے فرائض انجام دے رہے تھے اور اب وہ نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کی سربراہی کریں گے۔
آرمی ایکٹ میں تبدیلی
واضح رہے کہ گزشتہ سال آئینی اصلاحات کے بعد آرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (Chairman Joint Chiefs of Staff Committee) کا عہدہ ختم کر دیا گیا تھا، جس کی جگہ کمانڈر نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کا نیا عہدہ متعارف کرایا گیا۔
ترمیم شدہ قانون کے تحت اس اہم منصب پر تقرری وزیراعظم، چیف آف ڈیفینس فورسز (Chief of Defence Forces) کی سفارش پر کرتے ہیں، جبکہ تقرری کی مدت تین سال مقرر کی گئی ہے۔
مذید خبریں
حوثی باغیوں کے حملے اور شہباز شریف کی ولی عہد سے گفتگو ،کیا جنگ پھیل رہی ہے؟ – urdureport.com
سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی، احتجاجی تحریک بدستور جاری – urdureport.com
قانون کے مطابق قومی مفاد کے پیشِ نظر وزیراعظم، آرمی چیف کی سفارش پر کمانڈر نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کی مدتِ ملازمت میں مزید تین سال کی توسیع بھی دے سکتے ہیں، اور اس فیصلے کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔
آرمی ایکٹ میں شامل نئی شقوں کے تحت اس منصب پر تعینات جنرل پر فوجی ریٹائرمنٹ کی عمر اور بعض دیگر معمول کے سروس ضوابط کا اطلاق بھی نہیں ہوگا، جس سے اس عہدے کی آئینی اور انتظامی حیثیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔
جنرل عامر رضا کون ہیں؟
پاکستانی فوج کے سینئر افسر جنرل عامر رضا (General Amir Raza) کا شمار آرمرڈ کور (Armoured Corps) سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار فوجی کمانڈرز میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کے دوران کمانڈ، انتظامی اور دفاعی منصوبہ بندی سے متعلق متعدد اہم ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔
فور سٹار جنرل بننے سے قبل جنرل عامر رضا نے چیف آف جنرل سٹاف (Chief of General Staff) کے طور پر جنرل ہیڈکوارٹرز (GHQ) میں خدمات انجام دیں، جہاں آپریشنل منصوبہ بندی اور عسکری امور کی نگرانی ان کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل تھی۔
اس سے قبل وہ ڈائریکٹر جنرل ویپنز اینڈ ایکوپمنٹ (Director General Weapons and Equipment)، چیئرمین ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (Chairman Heavy Industries Taxila – HIT) اور جنرل آفیسر کمانڈنگ کھاریاں انفنٹری ڈویژن (GOC Kharian Infantry Division) جیسے اہم عہدوں پر بھی فرائض انجام دے چکے ہیں۔
تعلیمی اعتبار سے وہ کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ (Command and Staff College Quetta) اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد (National Defence University – NDU) کے گریجویٹ ہیں، جبکہ برطانیہ سے اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کر چکے ہیں۔
جنرل عامر رضا نے 2020 میں ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کی قیادت سنبھالی، جبکہ 2022 میں انہیں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ ان کی پیشہ ورانہ خدمات کے اعتراف میں انہیں ہلالِ امتیاز (ملٹری) (Hilal-i-Imtiaz Military) اور ستارۂ بسالت (Sitara-e-Basalat) جیسے اعلیٰ فوجی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔
دفاعی امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق جنرل عامر رضا ان سینئر افسران میں شامل تھے جنہیں 2022 میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی، اور بعد ازاں انہیں لاہور کور کی کمان بھی سونپی گئی۔
کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کیا ہے؟
گزشتہ برس آئینی اصلاحات کے بعد کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ (Commander National Strategic Command – CNSC) کا نیا عہدہ قائم کیا گیا، جسے پاکستان کے جوہری اور تزویراتی اثاثوں کی نگرانی اور کمان کا مرکزی منصب قرار دیا گیا۔
اس نئے نظام کے تحت جو ذمہ داریاں پہلے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی (Chairman Joint Chiefs of Staff Committee – CJCSC) کے پاس تھیں، وہ اس نئے ادارے کو منتقل کر دی گئیں، جبکہ سابقہ عہدہ ختم کر دیا گیا۔
قانون کے مطابق اس منصب پر تقرری وزیراعظم کرتے ہیں، تاہم اس کے لیے چیف آف آرمی سٹاف (Chief of Army Staff – COAS) کی سفارش لازمی ہوتی ہے، اور تقرری صرف حاضر سروس فور سٹار جنرلز میں سے کی جا سکتی ہے۔
ابتدائی مدت ملازمت تین سال مقرر کی گئی ہے، جبکہ قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت دوبارہ تقرری یا مدت میں توسیع بھی ممکن ہے۔ قانون میں یہ بھی درج ہے کہ اس تقرری یا توسیع سے متعلق حکومتی صوابدید کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ منصب پاکستان کی اسٹریٹجک صلاحیت، جوہری کمانڈ اینڈ کنٹرول، اور مستقبل کی عسکری حکمت عملی میں نہایت کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔


