نئی دہلی: بھارت کے معروف سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم سونم وانگچک (Sonam Wangchuk) نے تقریباً ایک ماہ تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے، تاہم ان کے حامیوں نے واضح کیا ہے کہ تعلیمی اصلاحات اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان (Dharmendra Pradhan) کے استعفے کے مطالبے پر احتجاج جاری رہے گا۔
سونم وانگچک (Sonam Wangchuk) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے حکومت کے نمائندوں سے طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ کشیدگی سے بچنے کے پیشِ نظر اپنی 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جنتر منتر سے منتقلی
رپورٹس کے مطابق سونم وانگچک (Sonam Wangchuk) کو چند روز قبل نئی دہلی کے جنتر منتر (Jantar Mantar) سے طبیعت بگڑنے پر میڈانتا ہسپتال، گروگرام (Medanta Hospital, Gurugram) منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ زیرِ علاج رہتے ہوئے بھی احتجاج جاری رکھے ہوئے تھے۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق ان کی حالت مستحکم ہے اور مختلف شعبوں کے ماہر ڈاکٹر مسلسل ان کی نگرانی کر رہے ہیں۔
بھوک ہڑتال کے دوران سونم وانگچک (Sonam Wangchuk) صرف پانی اور نمک استعمال کر رہے تھے، جبکہ شدید گرمی کے باعث ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوئے تھے۔بھارتی میڈیا کے مطابق حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ جنتر منتر (Jantar Mantar) پر احتجاج کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، جس کے بعد سونم وانگچک (Sonam Wangchuk) نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔
کاکروچ پارٹی رہنماوں کا اعلان
دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی (Cockroach Janata Party – CJP) کے رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ احتجاجی تحریک ختم نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان (Dharmendra Pradhan) اپنے عہدے سے مستعفی نہیں ہوتے، پرامن احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھیجیت دیپکے (Abhijit Dipke) نے سونم وانگچک (Sonam Wangchuk) کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کی صحت سب سے زیادہ اہم ہے، جبکہ تحریک اپنے مقاصد کے حصول تک جاری رہے گی۔
بھوک ہڑتال ایک موثر ہتھیار
بھارت میں بھوک ہڑتال کو سیاسی اور سماجی احتجاج کی ایک مؤثر روایت سمجھا جاتا ہے۔ مہاتما گاندھی (Mahatma Gandhi)، پوٹی سری رامولو (Potti Sriramulu)، اروم شرمیلا (Irom Sharmila) اور انا ہزارے (Anna Hazare) سمیت متعدد رہنما اپنے مطالبات کے لیے اس طریقۂ احتجاج کو اختیار کرتے رہے ہیں۔
مذید خبریں
دہلی : کاکروچ جنتر منتر سے نکل پڑے ، مودی کے لیے خطرے کی گھنٹی – urdureport.com
اسلام بی بی کا مقدمہ : جس نے برطانوی سامراج کے خلاف فقیر ایپی کی بغاوت کو جنم دیا – urdureport.com
ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک بھوک ہڑتال انسانی جسم کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ مسلسل خوراک نہ ملنے سے جسمانی کمزوری، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اور دیگر سنگین طبی پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
سونم وانگچک (Sonam Wangchuk) کی بھوک ہڑتال اگرچہ ختم ہو چکی ہے، تاہم ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ تعلیمی اصلاحات، طلبہ کے حقوق اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف ان کی تحریک آئندہ بھی جاری رہے گی۔


