برسبین: آسٹریلیا میں ایک ایسا طبی معجزہ سامنے آیا ہے جسے ماہرین انتہائی نایاب قرار دے رہے ہیں۔ 34 سالہ خاتون نے کسی بھی قسم کی تولیدی طبی تکنیک یا آئی وی ایف کی مدد کے بغیر قدرتی طور پر ایک جیسی شکل و صورت رکھنے والی چار بچیوں کو جنم دیا۔
بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق رائل برسبین اینڈ ویمنز ہسپتال Royal Brisbane and Women’s Hospital کے مطابق یہ غیرمعمولی حمل اپنی نوعیت کے اعتبار سے انتہائی حساس اور خطرات سے بھرپور تھا، اسی لیے حاملہ خاتون کو حمل کے 25ویں ہفتے ہی ہسپتال میں داخل کر لیا گیا تاکہ مسلسل طبی نگرانی جاری رکھی جا سکے۔
ڈاکٹروں نے 14 جولائی کو حمل کے 28 ہفتے اور چار دن مکمل ہونے پر سیزیرین آپریشن کے ذریعے چاروں بچیوں کی محفوظ پیدائش Natural Quadruplets Birthکرائی۔طبی ماہرین کے مطابق قدرتی طور پر کسی طبی معاونت کے بغیر ایک جیسے چار بچوں Identical Quadruplets کی پیدائش دنیا کے نایاب ترین واقعات میں شمار ہوتی ہے، جس کے امکانات انتہائی کم ہوتے ہیں، اسی لیے اس واقعے نے طبی حلقوں کی بھی بھرپور توجہ حاصل کی ہے۔
ایک ہی بیضہ چار بچیوں میں تقسیم
ماہرین کے مطابق یہ بچیاں مونوزائگوٹک آئیڈینٹیکل کوآڈروپلیٹسIdentical Monozygotic Quadrupletsہیں، یعنی ایک ہی بار آور ہونے والا بیضہ بار بار تقسیم ہو کر چار الگ الگ بچوں میں تبدیل ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ چاروں بچیوں کی جینیاتی ساخت تقریباً ایک جیسی Four Identical Baby Girls ہے اور ان کی شکل و صورت میں بھی نمایاں مماثلت پائی جاتی ہے۔
ماہر امراضِ نسواں ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے کیس دنیا بھر میں نہایت کم Rare Medical Caseدیکھنے کو ملتے ہیں۔ ان کے مطابق لاکھوں حملوں میں شاید ایک بار ایسا واقعہ پیش آتا ہے، جبکہ اس حمل کی ایک اور غیرمعمولی خصوصیت یہ تھی کہ چاروں بچیاں ایک ہی پلیسنٹا Placenta سے غذائیت حاصل کر رہی تھیں، جسے طبی ماہرین دنیا کی انتہائی منفرد پیدائش World’s Rarest Birthsقرار دے رہے ہیں۔
ڈاکٹر بینڈال نے بتایا کہ اس قسم کے حمل میں قبل از وقت پیدائش، خون کی روانی میں مسائل اور دیگر پیچیدگیوں کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے، تاہم طبی ٹیم کی مسلسل نگرانی اور بروقت اقدامات کے باعث ماں اور چاروں بچیاں محفوظ رہیں۔
والدین کے تاثرات
Jenitar Na’amoana/Gofundme،تصویر شکریہ بی بی سی اردو
خاتون جینیٹر نا آموآنا اور ان کے شوہر جورتھم کے گھر میں پہلے ہی چار بچے موجود تھے۔ والدین کا کہنا ہے کہ جب انہیں پہلی مرتبہ بتایا گیا کہ ایک ساتھ چار بچوں کی پیدائش متوقع ہے تو وہ حیرت میں مبتلا رہ گئے تھے، لیکن اب اپنی چار نئی بیٹیوں کی آمد پر بے حد خوش ہیں۔نوزائیدہ بچیوں کے نام ایملی، ہیریئٹ، کیتھرین اور الیکسا رکھے گئے ہیں، جبکہ ایک بچی کا نام ڈاکٹر الیکسا بینڈال کے اعزاز میں رکھا گیا جنہوں نے حمل کے آغاز سے زچگی تک والدہ کی خصوصی دیکھ بھال کی۔
اس وقت چاروں بچیاں ہسپتال کے نیونیٹل انٹینسیو کیئر یونٹ (NICU) میں زیر علاج ہیں، جہاں ان کی نشوونما اور صحت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بچیوں کی حالت تسلی بخش ہے اور مکمل نشوونما کے بعد انہیں گھر بھیج دیا جائے گا۔
مذید خبریں
سائنسدانوں نے کمال کر دیا ،مصنوعی انڈوں سے چوزوں کی پیدائش – urdureport.com
ممتاز محل:چودھویں زچگی میں وفات پانے والی ملکہ کی محبت اور قربانی کی لازوال داستان – urdureport.com
آٹھ بچوں پر مشتمل ہونے والے اس خاندان کو اب روزمرہ ضروریات میں بھی اضافہ درپیش ہے۔ اسی مقصد کے لیے والدین نے کم از کم دس نشستوں والی ایک بڑی وین خریدنے اور بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے آن لائن فنڈ ریزنگ مہم شروع کی، جس میں اب تک لاکھوں روپے کے مساوی عطیات جمع ہو چکے ہیں۔


