تحریر : طارق اقبال چوہدری

القدس: برصغیر پاک و ہند، خصوصاً پنجاب کے مسلمانوں اور فلسطین کے درمیان صدیوں پرانے مذہبی، روحانی اور ثقافتی تعلق کی ایک نمایاں علامت القدس کے قدیم شہر میں واقع "زاویہ الہندیہ” (Indian Hospice / Zawiya al-Hindiyya) ہے۔ یہ تاریخی خانقاہ مسجدِ اقصیٰ کے شمال مشرقی حصے میں ہیروڈز گیٹ (Herod’s Gate) کے قریب واقع ہے اور تقریباً آٹھ سو برس سے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی یادگار سمجھی جاتی ہے۔
زاویہ الہندیہ یا زاویہ الفریدیہ
تاریخی روایات کے مطابق، برصغیر کے عظیم صوفی بزرگ حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ Hazrat Farid al-Din Masud Ganjshakar (RA)
(1173ء–1265ء) نے تیرہویں صدی کے اوائل میں حج کی ادائیگی کے بعد بیت المقدس کا سفر کیا۔ روایت ہے کہ انہوں نے القدس میں ایک پتھریلے زیرِ زمین حجرے میں چالیس روز تک عبادت، ذکر اور ریاضت کی۔ بعد ازاں یہی مقام "زاویہ الفریدیہ” اور پھر "زاویہ الہندیہ” کے نام سے مشہور ہو گیا۔

مؤرخین کے مطابق، حضرت بابا فریدؒ کے القدس کے سفر کی روایت صوفی روایات، مقامی فلسطینی روایات اور بعض تاریخی حوالوں میں موجود ہے۔حضرت فرید الدین گنج شکرؒ، جو عام طور پر بابا فریدؒ کے نام سے معروف ہیں، روایات کے مطابق، بابا فریدؒ نے بیت المقدس میں قیام کے دوران مسجدِ اقصیٰ کے اطراف پتھریلے فرش کی صفائی کی، جبکہ بعض روایات کے مطابق انہوں نے شہر کی فصیل کے اندر واقع ایک غار میں خاموشی کے ساتھ عبادت، ریاضت اور روزوں میں وقت گزارا۔
تاریخی طور پر یہ واضح نہیں کہ بابا فریدؒ نے بیت المقدس میں کتنی مدت قیام کیا، تاہم روایات کے مطابق پنجاب واپسی کے بعد وہ سلسلۂ چشتیہ کے سربراہ بنے اور برصغیر میں محبت، رواداری، خدمتِ خلق اور روحانیت کا پیغام عام کیا، جس کے اثرات آج بھی پورے خطے میں محسوس کیے جاتے ہیں۔
بابا فرید الدین گنج شکر کی زندگی

حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ (1173ء–1265ء) برصغیر کے عظیم صوفی بزرگ، شاعر اور سلسلۂ چشتیہ کے ممتاز رہنما تھے۔ آپ کی ولادت موجودہ پاکستان کے شہر کوٹھے وال (ضلع ملتان کے قریب، بعض روایات کے مطابق) میں ہوئی، جبکہ آپ نے اپنی روحانی زندگی کا بڑا حصہ موجودہ پاکستان کے شہر پاکپتن میں گزارا، جہاں آج بھی آپ کا مزار مرجعِ خلائق ہے۔
بابا فریدؒ نے محبت، رواداری، خدمتِ انسانیت، عاجزی اور اللہ کی یاد کا پیغام عام کیا، جس نے برصغیر میں اسلام اور تصوف کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ کے پنجابی اشعار کو پنجابی ادب کا ابتدائی سرمایہ سمجھا جاتا ہے، اور ان میں سے متعدد کلام بعد ازاں گرو گرنتھ صاحب میں بھی شامل کیے گئے، جو مختلف مذاہب کے درمیان احترام اور ہم آہنگی کی ایک منفرد مثال ہے۔ آج بھی بابا فریدؒ کو برصغیر کی روحانی تاریخ کی اہم ترین شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔
خانقاہ میں عبادت کا تسلسل
حضرت بابا فریدؒ کی نسبت سے قائم ہونے والی یہ خانقاہ بعد میں برصغیر سے آنے والے صوفیوں، علما، تاجروں اور حجاج کی آرام گاہ بن گئی۔ صدیوں تک ہندوستان، بعد ازاں پاکستان، بنگلہ دیش اور دیگر جنوبی ایشیائی خطوں سے آنے والے مسلمان یہاں قیام کرتے رہے، جس کے باعث اسے Indian Hospice یا "ہندوستانی خانقاہ” بھی کہا جانے لگا۔
یہ تاریخی مقام صلیبی جنگوں، مملوک سلطنت، عثمانی دور، برطانوی انتداب اور جدید فلسطینی تاریخ کے تمام نشیب و فراز سے گزرتا ہوا آج بھی قائم ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ صرف ایک خانقاہ نہیں بلکہ جنوبی ایشیا اور فلس*طین کے درمیان مذہبی، ثقافتی اور انسانی تعلقات کی زندہ علامت ہے۔

خانقاہ کے متولی شیخ نذیر انصاری کون ہیں ؟
شیخ نذیر انصاری زاویہ الہندیہ کے موجودہ متولی ہیں۔ انہوں نے اپنے والد شیخ محمد منیر انصاری کے بعد اس تاریخی خانقاہ کی ذمہ داری سنبھالی۔دستیاب تاریخی معلومات کے مطابق شیخ محمد منیر انصاری اور ان کے بیٹے شیخ نذیر انصاری برصغیر سے حالیہ دور میں ہجرت کرکے یروشلم نہیں گئے تھے، بلکہ ان کا خاندان کئی نسلوں سے القدس میں مقیم ہے۔
شیخ نذیر انصاری کا خاندان ایک صدی سے زائد عرصے سے زاویہ الہندیہ کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔ وہ اس تاریخی اور روحانی ورثے کی حفاظت، عمارت کی نگرانی اور دنیا بھر سے آنے والے زائرین، محققین اور مؤرخین کی میزبانی کرتے ہیں۔
ان کی نگرانی میں زاویہ الہندیہ آج بھی القدس میں برصغیر، خصوصاً پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے تاریخی، روحانی اور ثقافتی رشتے کی ایک اہم علامت کے طور پر قائم ہے۔
محمد منیر انصاری یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں: جنگ کے باعث برصغیر سے آنے والے زائرین اور حجاج کا سلسلہ تقریباً منقطع ہو گیا، اور یوں محمد منیر انصاری کے بچپن کی وہ رنگا رنگ اور پررونق فضا بھی ماضی کا حصہ بن گئی۔
شیخ محمد منیر انصاری کے مطابق 5 جون 1967ء کو جنگ شروع ہوئی۔ دوسرے دن اردنی فوجی خانقاہ کے اندر پناہ لینے آئے۔ اگلی صبح وہ اپنی وردیاں اور اسلحہ چھوڑ کر چلے گئے۔ بعد میں مقامی افراد نے وہ اسلحہ اٹھا کر اسرائیلی فوج پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں اسرائیلی فوج نے زاویہ الہندیہ پر شدید گولہ باری کی۔
اس حملے کے دوران شیخ منیر اپنے اہلِ خانہ کو ایک کمرے سے دوسرے کمرے منتقل کرتے رہے، مگر آخرکار حضرت بابا فریدؒ کے مزار کے قریب ایک گولہ آ گرا۔ چھت منہدم ہوگئی۔ شیخ منیر کے ہاتھ، چہرہ اور بال بری طرح جھلس گئے، تاہم انہوں نے ملبے سے زندہ بچ جانے والوں کو نکالا۔اس افسوسناک واقعے میں ان کی والدہ، بہن اور دو سالہ بھانجا جاں بحق ہوگئے۔

(شیخ حسن نذیر انصاری شکریہ تصویر بی بی سی نیوز Sheikh Hasan Nazir Ansari)
محققین کی رائے
القدس میں ہندوستانی اور زاویہ الہندیہ کی تاریخ کو مختلف محققین نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق، یہ مقام اس بات کا ثبوت ہے کہ برصغیر اور القدس کے درمیان تعلق صرف سیاسی یا جدید دور کا نہیں بلکہ کم از کم آٹھ سو برس پر محیط روحانی اور تہذیبی رشتہ ہے۔
مذید فیچر سٹوریز
سکھ مت کے بانی بابا گورونانک دیوجی،جن کے ہندو اور مسلمان دونوں معترف تھے – urdureport.com
اسلام بی بی کا مقدمہ : جس نے برطانوی سامراج کے خلاف فقیر ایپی کی بغاوت کو جنم دیا – urdureport.com
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حضرت بابا فریدؒ کے القدس میں قیام کی بعض تفصیلات تاریخی بحث کا موضوع ہیں، تاہم اس بات پر وسیع اتفاق پایا جاتا ہے کہ زاویہ الہندیہ ایک حقیقی تاریخی صوفی خانقاہ ہے، جو صدیوں سے برصغیر کے مسلمانوں سے وابستہ رہی ہے اور آج بھی جنوبی ایشیا اور فلسطین کے مشترکہ ورثے کی ایک اہم علامت سمجھی جاتی ہے۔
اس تاریخی مقام کی موجودگی اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ برصغیر، خصوصاً پنجاب کے مسلمانوں اور بیت المقدس کے درمیان تعلق صرف عقیدت کا نہیں بلکہ صدیوں پر محیط تاریخ، تصوف، ثقافت اور انسانی روابط پر بھی استوار ہے۔


