• Home  
  • ٹرمپ نے سعودی جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط کر دیا
- ٹاپ سٹوری

ٹرمپ نے سعودی جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط کر دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سویلین جوہری تعاون کا معاہدہ صرف اسی صورت میں حتمی منظوری حاصل کرے گا جب سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے والے ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونے پر آمادہ ہوگا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ […]

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سویلین جوہری تعاون کا معاہدہ صرف اسی صورت میں حتمی منظوری حاصل کرے گا جب سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے والے ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونے پر آمادہ ہوگا۔

معاہدے کی بنیادی شرط

جوہری تعاون کا معاہدہ کیا ہے؟

اسرا*ئیل میں مختلف آراء

اسرا*ئیلی وزیر اقتصادیات نیر برکات نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب جوہری توانائی کو صرف بجلی اور دیگر پُرامن ضروریات کے لیے استعمال کرتا ہے تو اسرا*ئیل کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

اس کے برعکس اسرا*ئیل کے سابق وزیر دفاع اور سابق وزیر خارجہ اویگدور لیبرمین نے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب کا سول جوہری پروگرام مستقبل میں عسکری جوہری صلاحیت میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں اسلحے کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہوگا۔

ابراہیمی معاہدے کیا ہیں؟

ابراہیمی معاہدے 2020 میں ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران طے پائے تھے، جن کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے اسرا*ئیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔

ان معاہدوں کا مقصد عرب ممالک اور اسرا*ئیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانا اور خطے میں اقتصادی و سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا۔

سعودی عرب کا دیرینہ مؤقف

پاکستان سمیت دیگر ممالک کا بھی ذکر

خطے پر ممکنہ اثرات

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!