امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں مطالبہ کیا ہے کہ ایران سے متعلق تنازع کے حل کے بعد متعدد مسلم اور عرب ممالک بیک وقت ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہوں۔
صدر ٹرمپ Donald Trumpکا کہنا ہے کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے یہ ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے اور اس عمل سے مشرقِ وسطیٰ میں نئے دور کا آغاز ہوگا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق حالیہ دنوں میں ان کی مختلف علاقائی رہنماؤں سے ٹیلیفونک بات چیت ہوئی جس میں ایران کے مسئلے اور خطے کے مستقبل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ جاری سفارتی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو اس کے بعد متعدد ممالک کو اسرا*ئیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے ابراہیمی معاہدوں کا حصہ بننا چاہیے۔ ٹرمپ نے اس امکان کا بھی ذکر کیا کہ مستقبل میں ایران کو بھی اس وسیع علاقائی فریم ورک میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ابراہیمی معاہدوں سے پہلے سے شامل ممالک کو معاشی، تجارتی اور سفارتی فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ ان کے بقول اگر مزید ممالک اس عمل میں شریک ہوتے ہیں تو یہ خطے میں تعاون، سرمایہ کاری اور سلامتی کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے سعودی عرب اور قطر سمیت دیگر ممالک پر زور دیا کہ وہ اس عمل میں قائدانہ کردار ادا کریں۔
ابراہیمی منصوبہ کیا ہے؟
ابراہیمی معاہدے (Abraham Accords) 2020 میں امریکی ثالثی میں ہونے والے سفارتی معاہدوں کا ایک سلسلہ ہے جس کے تحت United Arab Emirates، Bahrain، Morocco اور Sudan نے Is*rael کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے اور سفارتی، تجارتی و سکیورٹی روابط قائم کرنے پر اتفاق کیا۔ ان معاہدوں کو حضرت ابراہیمؑ کے نام سے منسوب کیا گیا کیونکہ یہودیت، عیسائیت اور اسلام تینوں مذاہب حضرت ابراہیمؑ کو مشترکہ نبی اور بزرگ مانتے ہیں۔ حامیوں کے مطابق یہ معاہدے خطے میں امن، تجارت اور تعاون کو فروغ دیتے ہیں۔
مذید پڑھئِے
امریکہ ایران امن معاہدہ مسودہ طے،24 گھنٹوں میں باضابطہ – urdureport.com
امریکہ ایران ممکنہ معاہدے کی تفصیلات منظر عام – urdureport.com
ناقدین کا مؤقف ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام اور فلسطینی مسئلے کے حل کے بغیر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانا مسئلہ فلسطین کو پسِ پشت ڈالنے کے مترادف ہے۔
لنڈسے گراہم کا بڑا بیان
ادھر امریکی سینیٹر Lindsey Graham نے بھی ٹرمپ کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران سے متعلق تنازع کے خاتمے کے بعد مسلم اور عرب ممالک ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو جاتے ہیں تو یہ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کے اہم ترین سفارتی اقدامات میں شمار ہوگا۔ انہوں نے سعودی عرب، قطر اور پاکستان کا نام لیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کی شمولیت علاقائی سیاست میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔
گراہم کے بیان میں یہ تنبیہ بھی شامل تھی کہ اگر بعض اتحادی ممالک اس تجویز کو مسترد کرتے ہیں تو مستقبل کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ ان کے اس مؤقف پر سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں شدید ردِعمل سامنے آیا، جہاں متعدد صارفین اور تجزیہ کاروں نے اسے دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ہر ملک اپنی خارجہ پالیسی اور قومی مفادات کے مطابق فیصلے کرنے کا حق رکھتا ہے۔
پاکستان سعودی عرب کا ردعمل؟
سعودی عرب، پاکستان اور قطر کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ان ممالک کا دیرینہ مؤقف یہ رہا ہے کہ فل*سطین کے مسئلے کا منصفانہ اور قابلِ قبول حل خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے۔ سعودی قیادت متعدد مواقع پر اس بات کا اعادہ کر چکی ہے کہ ایک آزاد فل*سطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا معاملہ پیچیدہ رہے گا۔
علاقائی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں اسرا*ئیل اور بعض عرب ممالک کے درمیان تعلقات کے مزید فروغ کا انحصار بڑی حد تک فل*سطینی تنازع اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر ہے۔ ان کے مطابق صرف سفارتی اعلانات کافی نہیں ہوں گے بلکہ اعتماد سازی، سیاسی پیش رفت اور دیرپا تنازعات کے حل کے لیے عملی اقدامات بھی ناگزیر ہوں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کی تازہ تجویز نے ایک بار پھر ابراہیمی معاہدوں، فل*سطینی ریاست کے قیام اور مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل سے متعلق بحث کو عالمی سطح پر نمایاں کر دیا ہے، جبکہ آنے والے مہینوں میں متعلقہ ممالک کے سرکاری مؤقف اس معاملے کی سمت کا تعین کریں گے۔


