امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ Donald Trump نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی پولیسنگ کے لیے تقریباً سات ممالک سے بات چیت کی گئی ہے۔
جاپان اور آسٹریلیا نے آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے اپنے جنگی بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔
آسٹریلیا کی وزیر ٹرانسپورٹ کیتھرین کنگ نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ اُن کا ملک آبنائے ہرمز میں اپنے بحری جنگی جہاز نہیں بھیجے گا۔
جاپانی وزیر دفاع نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ایران کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہم میری ٹائم سکیورٹی آپریشن شروع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’میں نے چین سے پوچھا کہ کیا آپ آنا پسند کریں گے؟ اور ہم دیکھیں گے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔‘صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چین تیل کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے
صدر ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ چین کے علاوہ کن ممالک سے اس حوالے سے بات چیت ہوئی ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ NATO اور دیگر وہ ممالک جو اس راستے سے توانائی حاصل کرتے ہیں، انہیں بھی خطے میں اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کچھ ممالک اس معاملے میں مدد نہیں کرتے تو امریکہ اسے یاد رکھے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض ممالک کے پاس بارودی سرنگوں کو سنبھالنے اور خاص قسم کی کشتیوں کی صلاحیت موجود ہے جو اس مشن میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
اس سے ایک دن پہلے، ہفتے کو صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ France، Japan، South Korea اور United Kingdom جیسے ممالک آبنائے ہرمز میں اپنے جنگی بحری جہاز بھیجیں گے تاکہ Iran کی جانب سے کسی ممکنہ خطرے کو روکا جا سکے۔
اس بیان کے بعد مختلف ممالک کی طرف سے ردِعمل بھی سامنے آیا۔ برطانوی وزارتِ دفاع کے ترجمان کا کہنا تھا کہ برطانیہ خطے میں جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔
دوسری جانب واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ چین فوری طور پر جنگ بندی کا حامی ہے۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا چین امریکی تجویز پر عمل کرے گا یا نہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ توانائی کی مستحکم فراہمی کو یقینی بنانا تمام متعلقہ فریقوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر یہ دعویٰ بھی دہرایا کہ ایران معاہدہ کرنے کا خواہش مند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران سے بات چیت کر رہا ہے، لیکن ابھی یہ واضح نہیں کہ ایران مکمل طور پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، اگرچہ وہ اس کے قریب آ رہا ہے۔
جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران کے خلاف کامیابی کا اعلان کرنے کے لیے تیار ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ امریکہ نے ایران کو کافی نقصان پہنچایا ہے اور اگر اس مرحلے پر دباؤ کم کر دیا جائے تو ایران کو دوبارہ تعمیر کے لیے تقریباً دس سال لگ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئیں


