سرگودھا کے علاقے جھال چکیاں میں پولیس نے ان 2 مشتبہ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر ایک نوجوان لڑکے کو اس وقت زندہ دفن کر دیا جب اس نے اپنے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کے بارے میں آگاہ کیا۔
اس خوفناک جرم کا انکشاف اس وقت ہوا جب ایک راہگیر نے زمین سے باہر نکلتا ہوا لڑکے کا ہاتھ دیکھا، جس پر مقامی لوگ جائے وقوعہ پر جمع ہو گئے۔

انہوں نے مٹی کھودنا شروع کی تو نوجوان تشویشناک حالت میں ملا، مقامی لوگوں نے پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد لڑکے کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کر دیا ہے۔
ڈی پی او سرگودھا شعیب اشرف کے مطابق 14 سالہ لڑکے کو تقریباً 20 دن قبل جھال چکیاں کے علاقے میں 3 ملزمان نے مبینہ طور پر بدفعلی کا نشانہ بنایا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ملزمان نے لڑکے کو دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے کسی کو اس واقعے کے بارے میں بتایا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق ڈی پی او نے بتایا کہ ملزمان کو بعد میں معلوم ہوا کہ لڑکے نے اپنے رشتہ داروں کو واقعے سے آگاہ کر دیا ہے اور ان کے نام بتا دیے ہیں
انہوں نے مزید بتایا کہ ملزمان نے جمعہ کے روز لڑکے کو اغوا کیا اور اسے جھال چکیاں کے ایک سنسان علاقے میں زندہ دفن کر دیا۔
ڈی پی او کا کہنا تھا کہ پولیس نے 2 مرکزی ملزمان کا سراغ لگا کر مقدمہ درج کرنے کے بعد انہیں جیل بھیج دیا ہے، جبکہ تیسرے ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس کی ایک اور ٹیم روانہ کر دی گئی ہے۔
ڈی پی او نے مزید کہا کہ متاثرہ لڑکے کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد مزید قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔


