سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس X(سابقہ ٹوئٹر) پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کے لیے دی گئی منگل کی ڈیڈ لائن بڑھانے کی عوامی اپیل کی اور اس پیغام کی تیاری میں وائٹ ہاؤس خود بھی شامل تھا۔
یہ ایک آخری لمحے کی کوشش لگ رہی تھی۔
اس بارئے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے ایک رپورٹ شائع کی ہے ۔
ٹرمپ کی رات 8 بجے کی ڈیڈ لائن تیزی سے قریب آ رہی تھی، اور پاکستان دونوں فریقین کے لیے کوئی درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسی لیے شہباز شریف نے منگل کی دوپہر سوشل میڈیا پر پیغام دیا۔
انہوں نے ٹرمپ کے اندازِ بیان کو اپناتے ہوئے کہا کہ سفارتکاری “مضبوط اور تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے”، اور ٹرمپ سے درخواست کی کہ ڈیڈ لائن کو دو ہفتے کے لیے بڑھا دیا جائے۔ اس پیغام میں انہوں نے ٹرمپ اور ان کے اہم مشیروں کو ٹیگ بھی کیا۔
Diplomatic efforts for peaceful settlement of the ongoing war in the Middle East are progressing steadily, strongly and powerfully with the potential to lead to substantive results in near future. To allow diplomacy to run its course, I earnestly request President Trump to extend…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) April 7, 2026
پس پردہ صورتحال
لیکن پسِ پردہ صورتحال کچھ اور تھی۔
ذرائع کے مطابق، شہباز شریف کے پوسٹ کرنے سے پہلے ہی وائٹ ہاؤس اس پیغام کو دیکھ چکا تھا اور اس کی منظوری دے چکا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر نظر آنے کے مقابلے میں سفارتی رابطے کہیں زیادہ سرگرم تھے۔
یہ بھی واضح ہوا کہ وائٹ ہاؤس، ایک طرف جہاں ٹرمپ ایران کو سخت دھمکیاں دے رہے تھے، وہیں دوسری طرف اس بحران سے نکلنے کا راستہ بھی تلاش کر رہا تھا۔
کچھ لوگوں نے سوشل میڈیا پر یہ بھی قیاس کیا کہ شاید ٹرمپ نے خود یہ بیان لکھا ہے، خاص طور پر جب ابتدا میں پوسٹ کے ساتھ “Draft – Pakistan’s PM Message on X” لکھا ہوا تھا۔ تاہم، وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے اس کی تردید کی۔ پاکستانی سفارتخانے نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
یہ کوشش وقتی طور پر کامیاب رہی۔
چند گھنٹوں بعد ہی ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی (cease-fire) پر آمادہ ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئِے


