امریکی خاتونِ اول ملانیا ٹرمپ Melania Trump نے اچانک جیفری ایپسٹین تنازع پر بیان دے کر ایک نئی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے، جس کے اثرات وائٹ ہاؤس کی سیاست پر گہرے پڑ سکتے ہیں۔
اچانک بیان کا الٹا اثر؟
واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس سے خطاب کرتے ہوئے میلانیا ٹرمپ نے کہا کہ ان کا جیفری ایپسٹین Jeffrey Epstein سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی ایپسٹین نے ان کی ملاقات Donald Trump سے کروائی۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایپسٹین کی "متاثرہ” نہیں ہیں اور ان سے متعلق جھوٹی باتیں فوری طور پر بند ہونی چاہئیں۔
تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ بیان تنازع ختم کرنے کے بجائے اسے مزید بڑھا سکتا ہے، کیونکہ حالیہ دنوں میں اس حوالے سے کوئی بڑی عوامی بحث جاری نہیں تھی۔
سماجی تعلقات کا اعتراف
میلانیا ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ ماضی میں وہ اور ڈونلڈ ٹرمپ نیویارک اور فلوریڈا کے سماجی حلقوں میں ایپسٹین سے کبھی کبھار ملتے تھے، لیکن ان کے مطابق ان کی کوئی دوستی نہیں تھی۔
انہوں نے Ghislaine Maxwell کے ساتھ 2002 کی ایک ای میل کا بھی ذکر کیا، جسے انہوں نے "معمولی اور غیر اہم” قرار دیا۔
وائٹ ہاؤس کیلئے نئی مشکل
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت پہلے ہی ایران جنگ اور دیگر معاملات پر دباؤ کا شکار ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، میلانیا کا یہ قدم وائٹ ہاؤس کے بیانیے کو کمزور کر سکتا ہے، کیونکہ حکومت پہلے ہی اس معاملے کو "ختم” کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
متاثرین کا ردعمل
ایپسٹین کے متاثرین کے ایک گروپ نے میلانیا ٹرمپ کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ذمہ داری ریاستی اداروں سے ہٹا کر متاثرین پر ڈال رہی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ایپسٹین کیس سے متعلق تمام دستاویزات عوام کے سامنے لائے۔
کانگریس میں طلبی کا امکان
ڈیموکریٹک ارکانِ کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ میلانیا ٹرمپ کمیٹی کے سامنے حلف کے تحت بیان دیں۔
انہوں نے سابق خاتونِ اول Hillary Clinton کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ شفافیت کیلئے یہ ضروری ہے۔
ٹرمپ حکومت کیلئے دوہرا بحران
یہ تنازع ایسے وقت میں بڑھ رہا ہے جب ٹرمپ حکومت پہلے ہی ایران جنگ اور اندرونی سیاسی اختلافات کا سامنا کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق، ایپسٹین کیس اور خارجہ پالیسی کے مسائل مل کر صدر ٹرمپ کیلئے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئِے


