امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپDonald Trump نے کہا ہے کہ امریکہ جلد آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے تمام جہازوں کی ناکہ بندی شروع کرے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی ملاقات مجموعی طور پر اچھی رہی اور زیادہ تر نکات پر اتفاق بھی ہوا، تاہم سب سے اہم مسئلہ یعنی جوہری معاملہ حل نہ ہو سکا۔
ان کے مطابق آزادانہ آمدورفت کے معاہدے تک کسی بھی وقت پہنچا جا سکتا تھا، مگر ایران نے اس میں رکاوٹ ڈالی۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اسے پورا نہیں کیا، جس سے عالمی سطح پر بے چینی اور خلل پیدا ہوا۔
انہوں نے امریکی بحریہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ بین الاقوامی پانیوں میں ایسے جہازوں کو روکے جو ایران کو ٹول ادا کرتے ہیں، اور ایرانی بارودی سرنگوں کو بھی تباہ کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو بھی غیر قانونی ادائیگی کرے گا اسے محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا، جبکہ کسی بھی حملے کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گا۔
ادھر اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے ٹرمپ نے بتایا کہ تقریباً 20 گھنٹے کی بات چیت کے بعد اصل اختلاف ایران کے جوہری پروگرام پر سامنے آیا۔
انہوں نے کہا کہ کئی معاملات پر اتفاق ممکن تھا، مگر امریکہ ایسے حالات میں ایران کو جوہری طاقت بننے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ ٹرمپ نے J. D. Vance اور دیگر حکام سے بریفنگ لینے کا ذکر کیا اور Shehbaz Sharif کی کوششوں کو بھی سراہا.
یہ بھی پڑھئیے


