امریکی انٹیلیجنس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ چین ایک نازک جنگ بندی کے دوران ایران کو ہتھیاروں کی کھیپ بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔
امریکی انٹیلیجنس کے مطابق چین آئندہ چند ہفتوں میں ایران کو نئے فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے، یہ بات تین ایسے ذرائع نے بتائی ہے جو حالیہ انٹیلیجنس جائزوں سے واقف ہیں۔
یہ ایک اشتعال انگیز قدم تصور کیا جا سکتا ہے کیونکہ بیجنگ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے حال ہی میں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کروانے میں مدد دی، جس سے اس ہفتے کے آغاز میں جنگ عارضی طور پر رک گئی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اگلے ماہ کے آغاز میں چینی صدر شی جن پنگ سے مذاکرات کے لیے چین کا دورہ کرنے والے ہیں۔

انٹیلی جنس ذرائع سے انکشافات
انٹیلیجنس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر جنگ بندی کو ایک موقع کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنے کچھ ہتھیاری نظاموں کو دوبارہ مضبوط کر رہا ہے، جس میں اسے اہم غیر ملکی شراکت داروں کی مدد حاصل ہے۔
دو ذرائع کے مطابق اشارے ملے ہیں کہ بیجنگ ان ہتھیاروں کی ترسیل کو تیسرے ممالک کے ذریعے کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ان کی اصل کو چھپایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق چین جو نظام ایران کو دینے کی تیاری کر رہا ہے وہ کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے اینٹی ایئر میزائل سسٹمز (MANPADS) ہیں، جو کم بلندی پر پرواز کرنے والے امریکی فوجی طیاروں کے لیے غیر متناسب خطرہ بن سکتے ہیں، جیسا کہ پانچ ہفتوں پر محیط جنگ کے دوران بھی دیکھا گیا، اور اگر جنگ بندی ٹوٹ گئی تو دوبارہ ایسا ہو سکتا ہے۔
چینی سفارتخانے کی تردید
واشنگٹن میں چینی سفارتخانے کے ترجمان نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ “چین نے کبھی بھی اس تنازعے میں کسی فریق کو ہتھیار فراہم نہیں کیے، یہ معلومات غلط ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ “ایک ذمہ دار بڑی طاقت کے طور پر چین ہمیشہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے۔
ہم امریکہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بے بنیاد الزامات لگانے، غلط روابط قائم کرنے اور سنسنی خیزی سے گریز کرے، اور متعلقہ فریقین کشیدگی کم کرنے کے لیے مزید اقدامات کریں۔”
اس ہفتے کے آغاز میں بھی چینی سفارتخانے کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے بیجنگ جنگ بندی اور تنازع کے خاتمے کے لیے کام کر رہا ہے۔
کندھے سے فائر ہونے والے میزائل
صدر ٹرمپ نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں اشارہ دیا کہ گزشتہ ہفتے ایران میں گرایا گیا ایف-15 لڑاکا طیارہ ایک “کندھے سے فائر ہونے والے، حرارت کو تلاش کرنے والے میزائل” سے نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایک “نئے” فضائی دفاعی نظام کے ذریعے طیارے کو مار گرایا، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ یہ واضح نہیں کہ آیا وہ نظام چینی ساختہ تھا یا نہیں۔
ایران کو MANPADS فراہم کرنا چین کی جانب سے حمایت میں اضافے کے طور پر دیکھا جائے گا، خاص طور پر اس وقت جب امریکہ اور اسرائیل نے فروری میں مشترکہ فوجی مہم شروع کی تھی۔
ذرائع کے مطابق چینی کمپنیاں پہلے ہی ایران کو پابندیوں کے باوجود دوہری استعمال کی ٹیکنالوجی فروخت کر رہی ہیں، جو ایران کو ہتھیار بنانے اور اپنے نیویگیشن نظام کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے، تاہم چینی حکومت کی جانب سے براہِ راست ہتھیار فراہم کرنا ایک نئی سطح کی معاونت ہوگی۔
چینی امریکی صدور ملاقات
صدر ٹرمپ کی اگلے ماہ بیجنگ میں شی جن پنگ سے ملاقات متوقع ہے، اور وائٹ ہاؤس نے بدھ کو بتایا کہ ایران جنگ بندی مذاکرات کے دوران امریکہ اور چین کے درمیان اعلیٰ سطحی بات چیت بھی ہوئی ہے۔
ایک ذریعے کے مطابق چین اس تنازع میں کھل کر شامل ہونے میں کوئی بڑا اسٹریٹجک فائدہ نہیں دیکھتا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف براہِ راست محاذ آرائی کامیاب نہیں ہو سکتی۔
اس کے بجائے بیجنگ ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے خود کو بظاہر غیر جانبدار ظاہر کرنا چاہتا ہے تاکہ جنگ کے بعد اپنی پوزیشن محفوظ رکھ سکے۔
ذرائع نے یہ بھی کہا کہ چین یہ مؤقف اختیار کر سکتا ہے کہ فضائی دفاعی نظام دفاعی نوعیت کے ہوتے ہیں، نہ کہ جارحانہ، اور اس طرح وہ اپنی حمایت کو روس سے مختلف قرار دے سکتا ہے۔ روس جنگ کے دوران ایران کو انٹیلیجنس فراہم کرتا رہا ہے، جس سے ایران کو مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجیوں اور اثاثوں کو نشانہ بنانے میں مدد ملی۔
ایران کے چین اور روس دونوں کے ساتھ طویل عرصے سے فوجی اور اقتصادی تعلقات قائم ہیں۔ ایران نے یوکرین جنگ میں روس کی مدد کے لیے شاہد ڈرون فراہم کیے، جبکہ وہ چین کو اپنی زیادہ تر پابندیوں کے باوجود تیل فروخت کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئِے


