امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کے امکانات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور جلد ہی امن مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکی کارروائیاں ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔
ایک انٹرویو میں، جو پروگرام ’مارننگز ود ماریہ‘ میں نشر ہوگا اور جس کی میزبانی Maria Bartiromo کر رہی ہیں، ٹرمپ Donald Trumpکا کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ جنگ تقریباً ختم ہونے والی ہے، میں اسے اختتام کے بہت قریب سمجھتا ہوں۔‘۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور Iran کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے اسلام آباد پاکستان Islamabad Pakistan Pakistan میں تعطل کا شکار ہونے والی بات چیت دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال
ادھر امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہ آبنائے ہرمز strait of Hurmoz پر بحری ناکہ بندی نافذ کیے جانے سے صورتحال میں مزید کشیدگی دیکھی جا رہی ہے، خاص طور پر اس کے بعد جب واشنگٹن نے کچھ عرصہ قبل بمباری روکنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔
ٹرمپ کے بیانات میں کسی حد تک تضاد بھی دیکھا گیا، کیونکہ ایک طرف انہوں نے جنگ کے خاتمے کا عندیہ دیا جبکہ دوسری جانب یہ بھی کہا کہ اگر ایران نے شرائط تسلیم نہ کیں تو کارروائیاں دوبارہ شروع ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ اگر امریکا نے مداخلت نہ کی ہوتی تو ایران جوہری ہتھیار Iran atomic power حاصل کر سکتا تھا، جو عالمی توازن کے لیے خطرناک ثابت ہوتا۔ ان کے مطابق آئندہ پیش رفت کا انحصار ایران کے رویے پر ہوگا۔
اسلام آباد میں مزاکرات کا دوسرا دور
مزید برآں، ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ وہ یا ان کی ٹیم جلد ہی مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے اسلام آباد کا رخ کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ Islamabad ایک موزوں مقام بن کر ابھرا ہے، جس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر Syed Asim Munir کے کردار کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے وفود رواں ہفتے دوبارہ اسلام آباد میں ملاقات کر سکتے ہیں تاکہ کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں جیسے Reuters، Bloomberg اور Associated Press کے مطابق دونوں فریق مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ ہیں اور پاکستان ایک بار پھر اس سفارتی عمل میں اہم کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی یہ چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ صدر ٹرمپ خود مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آباد آ سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھئِے


