امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس JD Vance نے واضح کیا کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں اپنی ’ریڈ لائنز‘ کھل کر بیان کیں، جن میں کچھ معاملات پر لچک ممکن تھی جبکہ کچھ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا تھا، تاہم ایران نے ان شرائط کو تسلیم نہیں کیا۔
فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئےدیتے ہوئے جے ڈی وینس JD Vance نے امریکی شرائط کی مزید تفصیلات بتائیں۔ ان کے مطابق امریکہ نے ایران Iran کو واضح طور پر بتایا تھا کہ کن نکات پر رعایت دی جا سکتی ہے اور کن معاملات پر ٹھوس یقین دہانی ضروری ہے تاکہ Donald Trump کو یہ یقین ہو سکے کہ کوئی بھی ممکنہ معاہدہ امریکہ کے مفاد میں ہے۔
امریکہ کے دو مطالبات
نائب صدر کے مطابق اسلام آباد مذاکرات Islamabad talks امریکہ کے دو بنیادی مطالبات تھے۔ پہلا اور سب سے اہم مطالبہ یہ تھا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے، اور یہی شرط تمام امریکی ’ریڈ لائنز‘ کی بنیاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایران اس بات پر آمادہ ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا، لیکن امریکہ ایک مؤثر تصدیقی نظام چاہتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ایران نہ صرف جوہری ہتھیارatomic weapon نہیں بنا رہا بلکہ اس کے پاس یورینیم افزودہ uranium enrichment کرنے کی صلاحیت بھی باقی نہ رہے۔
دوسرا اہم مطالبہ یہ تھا کہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم امریکہ United States کے حوالے کیا جائے۔ جے ڈی وینس کے مطابق ایک حالیہ امریکی کارروائی کے نتیجے میں یہ مواد ملبے تلے دب چکا ہے، تاہم امریکہ کا مؤقف ہے کہ اس مواد کو مکمل طور پر ایران سے باہر منتقل کیا جائے تاکہ اس پر مکمل کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔
انھوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ مذاکرات کے ناکام ہونے کی ایک وجہ ایرانی وفد کے اختیارات کی محدودیت ہو سکتی ہے۔مذاکرات میں ایسا محسوس ہوا کہ ایرانی ٹیم Irani team کے پاس حتمی فیصلے کا اختیار نہیں، جس کے باعث دونوں فریقوں نے فیصلہ کیا کہ ایرانی ٹیم تہران واپس جا کر مزید مشاورت کرے جبکہ امریکی وفد بھی واپس چلا
یہ بھی پڑھئِے


