اتوار کو نامور بھارتی گلوکارہ آشا بھوسلے Asha Bhosle کی وفات کی اطلاعات سامنے آئیں تو نہ صرف بھارت بلکہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ان کے مداحوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ پاکستانی فنکاروں اور مختلف عالمی ٹی وی چینلز نے بھی اس خبر کو نمایاں طور پر نشر کیا۔
پاکستان کے معروف نجی چینل Geo News نے بھی آشا بھوسلے کی وفات پر خصوصی کوریج نشر کی، تاہم اسی کوریج کے باعث چینل کو پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی PEMRA کی جانب سے شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا۔
جیو نیوز کے منیجنگ ڈائریکٹر Azhar Abbas نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس نوٹس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عظیم فنکاروں کی وفات پر ان کے کام کو خراجِ تحسین پیش کرنا ایک روایت ہے، مگر اس کے باوجود پیمرا نے پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔
پیمرا کا موقف
دوسری جانب پیمرا نے اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ کسی فنکار کی وفات کی خبر نشر کرنے پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم اس کے ساتھ فلمی گانے اور مناظر دکھانا صحافتی اصولوں کے خلاف ہے۔
سوشل میڈیا پر اس معاملے پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا۔ سابق گورنر سندھ Muhammad Zubair نے پیمرا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج آشا بھوسلے کے گانوں پر اعتراض ہو رہا ہے، کل شاید کسی پاکستانی چینل پر Virat Kohli کی تعریف پر بھی سوال اٹھایا جائے۔

صارفین کے خیالات
کچھ صارفین نے جیو نیوز کے اقدام کو سراہا اور کہا کہ آشا بھوسلے ایک عالمی سطح کی لیجنڈ تھیں جن کی موسیقی سرحدوں سے بالاتر ہے، جبکہ بعض افراد نے اعتراض کیا کہ موجودہ حالات کے تناظر میں فلمی گانوں پر مشتمل طویل کلپس نشر کرنا مناسب نہیں تھا۔
پیمرا کی جانب سے جاری شوکاز نوٹس میں چینل کو 27 اپریل کو وضاحت پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آشا بھوسلے کی وفات کی خبر کے ساتھ ان کے گائے ہوئے گانوں کی فلمی جھلکیاں نشر کی گئیں، جو کہ Supreme Court of Pakistan کے 2018 کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے، جس میں پاکستانی چینلز پر بھارتی مواد نشر کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
جیو نیوز کے مطابق وہ اس نوٹس کا قانونی جواب دیں گے، جبکہ پیمرا کا کہنا ہے کہ نجی چینلز کو سپریم کورٹ کے فیصلے اور پیمرا قوانین کی پابندی کرنا ہوگی۔
’میں بھی آشا بھونسلے کو پسند کرتی ہوں مگر مجھے بھی ناگوار گزر رہا تھا کہ آشا کی آواز نہیں بلکہ فلمائے گئے گانے دکھائے جا رہے تھے۔‘
یہ بھی پڑھئِے



