امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑھتی ہوئی تنقید کے پیش نظر ٹروتھ سوشل پر کی گئی ایک متنازع پوسٹ حذف کر دی ہے، جس میں وہ خود کو حضرت عیسیٰؑ کی تصویر کی مانند Jesus-like figure شخصیت کے طور پر دکھا رہے تھے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس تصویر میں انھیں حضرت عیسیٰؑ کے طور پر نہیں بلکہ ایک ڈاکٹر کے طور پر دکھایا گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اسے ایک ڈاکٹر کے طور پر دیکھا تھا۔ صرف فیک نیوز ہی اس کو اس طرح پیش کر سکتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ Donald trump نے عالمی قیادت اور عوام کے دباؤ کے باوجود کتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو چہاردہم سے اپنے بیان پر معافی مانگنے سے انکار کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اپنے بیان پر قائم ہیں۔ جس پر انھیں کسی قسم کی معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔
یہ اے آئی Trump AI picture Jesus-like figureسے تیار کردہ تصویر، جس میں ٹرمپ کو ایک بیمار شخص کو ہسپتال کے بستر پر شفا دیتے ہوئے دکھایا گیا تھا، امریکہ کے سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل کا باعث بنی، یہاں تک کہ ٹرمپ کے کچھ قریبی حامیوں نے بھی اس پر تنقید کی۔
یہ پوسٹ اُس وقت سامنے آئی جب ٹرمپ نے اس سے چند گھنٹے قبل Pope Leo XIV پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایک طویل پیغام شیئر کیا تھا، جو ایران میں امریکی اور اسرائی*لی فوجی کارروائیوں کے ناقد ہیں۔
میں ڈاکٹر کے روپ میں ہوں
ٹرمپ نے اس تصویر کو پوسٹ کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے صحافیوں سے کہا کہ ان کے خیال میں یہ تصویر انہیں "ڈاکٹر” کے طور پر دکھا رہی تھی۔
اب حذف کی جا چکی اس تصویر میں ٹرمپ کو سفید لباس میں دکھایا گیا تھا، جہاں وہ ایک بیمار شخص کے ماتھے پر چمکتا ہوا ہاتھ رکھے ہوئے تھے، جسے ناقدین نے ان مذہبی پینٹنگز سے مشابہ قرار دیا جن میں حضرت عیسیٰؑ مریضوں کو شفا دیتے دکھائے جاتے ہیں۔
تصویر کے پس منظر میں مجسمہ آزادی، امریکی پرچم، لڑاکا طیارے، ایک عقاب، ایک نرس، دعا کرتی ہوئی خاتون اور ایک فوجی بھی دکھایا گیا تھا۔
تصویر ہٹائے جانے کے چند گھنٹوں بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں تصویر میں وہ ایک ڈاکٹر کے طور پر دکھائے گئے تھے جو ایک ریڈ کراس ورکر کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا: "یہ ایک ڈاکٹر کے طور پر لوگوں کو بہتر بناتے ہوئے دکھانے کے لیے تھی۔ اور میں لوگوں کو بہتر بناتا ہوں، میں لوگوں کو بہت بہتر بناتا ہوں۔”
پوسٹ پر شدید تنقید
اس تصویر پر تنقید فوری طور پر سامنے آئی، جس میں ٹرمپ کے قریب سمجھے جانے والے افراد بھی شامل تھے۔
زیادہ تر تنقید مذہبی امریکی میڈیا اداروں کی جانب سے بھی آئی۔
David Brody نے لکھا: "یہ حد سے آگے چلا گیا ہے۔ یہ ایک لکیر عبور کر گیا ہے۔ کوئی حامی مشن کی حمایت کر سکتا ہے لیکن اس کو مسترد بھی کر سکتا ہے۔”
یہ متنازع تصویر امریکی صدر کی ایک اور پوسٹ کے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت بعد سامنے آئی، جس میں انہوں نے پوپ پر تنقید کرتے ہوئے انہیں "جرائم کے معاملے میں کمزور” اور "خارجہ پالیسی کے لیے خراب” قرار دیا تھا۔
Pope Leo XIV، جو پہلے امریکی پوپ ہیں، ایران میں جنگ کی بارہا مذمت کر چکے ہیں اور اسے "بے معنی اور غیر انسانی تشدد” قرار دے چکے ہیں۔
پوپ لیو کا بیان
پوپ نے پیر کو کہا کہ انہیں ٹرمپ انتظامیہ سے یا "انجیل کے پیغام کو بلند آواز میں بیان کرنے” سے کوئی خوف نہیں۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے معذرت نہیں کی۔
انہوں نے کہا: "پوپ لیو نے غلط باتیں کی ہیں۔ وہ ایران کے حوالے سے میرے اقدامات کے خلاف تھے، اور آپ ایک جوہری ایران نہیں ہونے دے سکتے۔ پوپ لیو انجام سے خوش نہیں ہوں گے۔”
یہ اے آئی سے بنی تصویر پہلی بار نہیں جب ٹرمپ کے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر تنقید ہوئی ہو۔
فروری میں Barack Obama اور ان کی اہلیہ Michelle Obama کو بندروں کے طور پر دکھانے والی ایک نسل پرستانہ ویڈیو بھی ان کے اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی تھی، جسے بعد میں ہٹا دیا گیا۔
ابتدائی طور پر وائٹ ہاؤس نے اس ویڈیو کو "انٹرنیٹ میم” قرار دیتے ہوئے ناقدین سے کہا تھا کہ "جعلی غصہ” بند کریں۔
تاہم شدید ردعمل کے بعد، جس میں کئی ریپبلکن سینیٹرز بھی شامل تھے، یہ پوسٹ ہٹا دی گئی اور ایک اہلکار نے کہا کہ ایک اسٹاف ممبر نے "غلطی سے” یہ پوسٹ کر دی تھی۔
یہ بھی پڑھئِے


