امریکی صدر ڈونلد ٹڑمپ Donald Trump نے پوپ لیو Pope Leo XIV کے خلاف اپنی تنقید کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پوپ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت دینے کے حامی ہیں، تاہم یہ دعویٰ غلط قرار دیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں پوپ سے کوئی ذاتی اختلاف نہیں، لیکن وہ “صحیح کام” کرنے کے پابند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “پوپ نے بیان دیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار رکھ سکتا ہے، جبکہ میں اس کی مخالفت کرتا ہوں۔”

اس موقع پر سی این این کی اینکر Kaitlan Collins نے فوری طور پر ٹرمپ کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پوپ لیو نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔
پوپ اور ایران کے جوہری ہتھیار
رپورٹ کے مطابق پوپ لیو نے نہ صرف ایران کے جوہری ہتھیاروں کی حمایت نہیں کی بلکہ وہ مسلسل جوہری اسلحے کے خلاف مؤقف رکھتے آئے ہیں اور عالمی سطح پر اس کے خاتمے کی اپیل کرتے رہے ہیں۔
پوپ نے ایران اور اسر ا*ئیل کے درمیان کشیدگی کے دوران بھی بیان دیا تھا کہ دنیا کو جوہری خطرات سے پاک بنانے کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے جنگ کے خاتمے اور امن کے قیام پر زور دیا، تاہم یہ مؤقف ایران کے جوہری ہتھیاروں کی حمایت کے مترادف نہیں۔
مزید برآں، پوپ لیو نے مختلف مواقع پر جوہری ہتھیاروں کو انسانیت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے ان کے مکمل خاتمے کی ضرورت پر زور دیا ہے، جبکہ ویٹیکن حکام بھی جوہری عدم پھیلاؤ کو ایک اہم اخلاقی ذمہ داری قرار دے چکے ہیں۔
دوسری جانب ٹرمپ کے بیانات میں حالیہ دنوں کے دوران شدت دیکھی گئی ہے۔ ابتدا میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایسے پوپ کو پسند نہیں کرتے جو ایران کے جوہری ہتھیاروں کو “درست” سمجھتا ہو، تاہم بعد میں انہوں نے یہ دعویٰ کر دیا کہ پوپ نے باقاعدہ ایسا بیان دیا ہے، جس کی کوئی تصدیق موجود نہیں۔
یہ بھی پڑھئِے


