ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ تہران نے اپنی افزودہ یورینیم امریکہ منتقل کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ افزودہ یورینیم ایران کے لیے اپنی سرزمین کی طرح اہم اور “مقدس” ہے اور اسے کسی بھی صورت ملک سے باہر منتقل نہیں کیا جا سکتا۔
ٹرمپ کا دعویٰ
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے یورینیم کو ملک سے باہر لے جانے اور امریکہ کے ساتھ تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ “اگلے دو دنوں میں” ایک معاہدہ طے پا جائے گا اور مشرقِ وسطیٰ میں امن مذاکرات جلد ہوں گے۔ تاہم ایران کی جانب سے ان دعوؤں کو غیر حقیقی قرار دیا گیا۔
ایران تنازع پرپیشرفت
دوسری جانب امریکی صدر نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے متعلق معاملات “بہتر سمت میں جا رہے ہیں” اور جلد اہم پیش رفت سامنے آئے گی، تاہم انہوں نے تفصیلات نہیں بتائیں۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر بدھ تک طویل مدتی جنگ بندی یا معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ اپنی پالیسی تبدیل کر سکتا ہے۔
اسی دوران ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ سے متعلق بھی بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر خوش ہیں اور دونوں رہنماؤں کی ملاقات مستقبل میں “اہم اور ممکنہ طور پر تاریخی” ہو سکتی ہے۔
ادھر امریکی حکومت نے ایک علیحدہ فیصلے میں روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری پر دی گئی رعایت میں تقریباً ایک ماہ کی توسیع کر دی ہے، تاہم اس پالیسی سے ایران کو باہر رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئِے


