ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں سوموار کو مزاکرات ہونے کی ابھی تک کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی کیونکہ ایران ابھی تک امریکہ کی نئی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے جس کے بعد اسلام آباد مزاکرات کی تاریخوں کا اعلان کیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران کی اعلیٰ سکیورٹی قیادت نے حالیہ علاقائی صورتحال اور امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی و ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے نیا مؤقف پیش کر دیا ہے۔
امریکہ کی نئی تجاویز
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، Supreme National Security Council نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف کی تہران آمد کے بعد امریکہ کی جانب سے کچھ نئی تجاویز سامنے آئی ہیں، تاہم ایران ابھی ان کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہے اور کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران خود کو حالیہ کشیدگی میں برتری کی پوزیشن میں سمجھتا ہے اور اس تناظر میں امریکہ کو اپنے مطالبات میں ردوبدل کرنا ہوگا۔
ایرانی حکام کے مطابق کسی بھی عارضی جنگ بندی کے لیے ضروری ہے کہ خطے کے تمام محاذوں، خصوصاً لبن*ان، پر مکمل سیزفائر نافذ ہو۔
ایران نے الزام عائد کیا کہ Isr*ael نے ابتدا میں لبنان میں کارروائیاں کر کے اس شرط کی خلاف ورزی کی، تاہم بعد ازاں ایرانی دباؤ کے نتیجے میں جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی گئی۔
آبنائے ہرمز پر ایرانی موقف

اہم آبی گزرگاہ Strait of Hormuz کے حوالے سے بھی ایران نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ بیان کے مطابق، اگر تمام فریق جنگ بندی کا احترام کریں تو ایران محدود پیمانے پر صرف تجارتی جہازوں کو اس راستے سے گزرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔ یہ اجازت ایرانی نگرانی اور مخصوص راستوں تک محدود ہوگی جبکہ فوجی جہازوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا جائے گا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خلیج میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی سپلائی کا بڑا حصہ اسی آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے، جسے وہ سکیورٹی خطرہ تصور کرتے ہیں۔
مزید کہا گیا کہ اگر کسی بھی جانب سے بحری ناکہ بندی یا جہازرانی میں رکاوٹ ڈالی گئی تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا اور ایسی صورت میں راستہ بند بھی کیا جا سکتا ہے۔
مزاکرات کی دعوت کس نے دی ؟
بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ جنگ کے ابتدائی دنوں کے بعد امریکہ کی جانب سے خود جنگ بندی اور مذاکرات کی درخواستیں سامنے آنا شروع ہوئیں۔
ایرانی قیادت نے واضح کیا کہ مذاکراتی ٹیم کسی دباؤ میں آ کر رعایت نہیں دے گی اور قومی مفادات، خودمختاری اور جنگ میں دی گئی قربانیوں کا ہر صورت دفاع کیا جائے گا۔
آخر میں عوام سے اپیل کی گئی کہ قومی اتحاد برقرار رکھا جائے تاکہ میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سفارتی سطح پر بھی مضبوط بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئِے


