آبنائے ہرمز میں ایک بار پھر کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے جہاں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی گن بوٹس کی جانب سے ایک آئل ٹینکر پر فائرنگ کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب امریکی چینل سی این این کے مطابق بروز سوموار کو ایران امریکہ مزاکرات ہونے جا رہے تھے کہ ایک بار پھر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے اور ایران نے امریکا پر ’سمندری قزاقی‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا نے پاسداران انقلاب کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ایران سے بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر امریکی ناکہ بندی ختم نہیں ہو جاتی، آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول اور نگرانی جاری رہے گی۔ دوسری جانب ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ایران ابھی تک امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور پر رضامند نہیں ہوا۔
🚨 BREAKING
IRAN MILITARY COMMAND SAYS THE STRAIT OF HORMUZ HAS BEEN CLOSED AGAIN OVER THE U.S. BLOCKADE.
THIS IS A DIRECT ESCALATION AFTER THE BRIEF REOPENING.
THIS DOESN’T LOOK GOOD FOR MARKETS 👀 pic.twitter.com/WdIqI4E1Ol
— Wimar.X (@DefiWimar) April 18, 2026
برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی ادارے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) کے مطابق یہ واقعہ عمان کے شمال مشرق میں تقریباً 20 ناٹیکل میل کے فاصلے پر پیش آیا، جہاں ایک آئل ٹینکر کے کپتان نے اطلاع دی کہ اسے دو ایرانی گن بوٹس نے گھیر لیا اور بغیر کسی وارننگ کے فائرنگ کی گئی۔ تاہم خوش قسمتی سے جہاز اور اس کا عملہ محفوظ رہے۔
ادارے کے مطابق متاثرہ ٹینکر کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، جبکہ واقعے کے بعد بحری سلامتی کے خدشات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
ایران کو موقف
دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر جاری ناکہ بندی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور ’سمندری قزاقی‘ کے مترادف ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ جب تک ایرانی جہازوں کی آمد و رفت کو خطرہ لاحق رہے گا، آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی معمول پر نہیں آئے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر Donald Trump نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مکمل معاہدہ ہونے تک بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی۔ ان کے مطابق امریکا اپنی سیکیورٹی اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔
ادھر خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں بھی بے چینی پائی جا رہی ہے، کیونکہ Strait of Hormuz دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات نہ صرف خطے میں سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئِے


