بارسلونا: میکسیکو، برازیل اور اسپین کے رہنماؤں نے کیوبا کو مزید انسانی امداد فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اس کی خودمختاری کے احترام پر زور دیا ہے۔ یہ مشترکہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ Donald Trump کی جانب سے کیوبا پر دباؤ میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
کیوبا جو کہ امیریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اگلا ہدف ہو سکتا ہے وہاں پر امریکی پابندیوں کے باعث انسانی بحران میں شدت آرہی ہے اور حالات خرابی کی جانب گامزن ہیں۔
امریکہ نے کیوبا پر پابندیاں اس لیے لگائیں کیونکہ وہ اس کی کمیونسٹ حکومت، سوویت یونین سے تعلقات، اور اپنے مفادات کے خلاف اقدامات سے ناراض تھا۔یہ پابندیاں 1960 کی دہائی میں شروع ہوئیں۔

بارسلونا میں منعقدہ ایک اجلاس کے بعد جاری بیان میں تینوں ممالک نے کیوبا میں جاری سنگین انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کیوبا کے عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے اپنی امدادی کوششوں میں اضافہ کریں گے۔
میکسیکو کی صدر Claudia Sheinbaum، اسپین کے وزیر اعظم Pedro Sánchez اور برازیل کے صدر Luiz Inácio Lula da Silva نے اپنے مشترکہ بیان میں خبردار کیا کہ کوئی بھی اقدام ایسا نہیں ہونا چاہیے جو بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہو۔
واضح رہے کہ امریکہ نے 1960 کی دہائی سے Cuba پر تجارتی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، تاہم حالیہ مہینوں میں ان پابندیوں میں مزید سختی کی گئی ہے۔
کیوبا پر امریکی پابندیاں
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے وینزویلا سے کیوبا کو تیل کی فراہمی روکنے اور دیگر ممالک کو بھی پابندیوں کی دھمکی دینے جیسے اقدامات کیے ہیں، جس کے باعث کیوبا میں ایندھن کی قلت اور بجلی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔
ادھر کیوبا کے صدر Miguel Díaz-Canel پر بھی مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، تاہم کیوبا کی قیادت نے ایسے مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔
تینوں ممالک نے اپنے بیان کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ کیوبا کے عوام کی مدد کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائیں گے اور انسانی بنیادوں پر امداد میں اضافہ کریں گے۔
ٹرمپ کی طرف سے کیوبا کے صدر Miguel Díaz-Canel کو ہٹانے کی باتیں بھی سامنے آئی ہیں
یہ بھی پڑھئِں


