تحریر:طارق اقبال چوہدری

کیوبا میں 1962 میں سوویت میزائل نصب ہونے کے بعد امریکہ اور سوویت یونین تقریباً ایٹمی جنگ کے قریب پہنچ گئے۔ یہ واقعہ کاسترو کے امریکہ مخالف مؤقف کا سب سے بڑا موڑ تھا ۔ 1960 سے کیوبا پر امریکہ نے پابندیاں عاید کر رکھی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہیں Cuba is next ۔آج دنیا میں کیوبا کی شکل میں ایک اور انسانی بحران جنم لے چکا ہے۔

کیوبا میں امریکہ کی سخت پابندیوں کی وجہ سے دنیا اسے امداد دینے سے کتراتی ہے اور اس کی ترقی کی شرح صفر ہے کیونکہ وہاں ایندھن کی شدید کمی ہے۔جہاں آج تارکین وطن اور سگار کی برامد ،محدود سیاحت گزر بسر کے بڑے ذریعے بن گئے ہیں۔
دنیا کی سپر پاور امریکہ سے 150 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود یہ ملک جس میں صرف ایک ہی سیاسی جماعت one-party communist state کی حکومت ہوتی ہے امریکہ یہاں جمہوریت نہ ہو نے کی وجہ سے ہمیشہ سے نا خوش رہا ۔
ایسے حالات میں محسوس ہورہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے بعد ایک اور ایڈونچر کرنے جا رہے ہیں۔
فیڈل کاسترو کا امریکہ کو چیلنج
کیریبین سمندر میں واقع چھوٹا سا جزیرہ کیوبا آج ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں ہے۔ کبھی انقلابی رہنما فیڈل کاسترو Fidel Castro کی قیادت میں امریکہ کو چیلنج کرنے والا یہ ملک آج معاشی دباؤ، سیاسی تنہائی اور انسانی بحران کے درمیان کھڑا ہے۔
فیڈل کاسترو کون تھے ؟
فیڈل کاسترو Fidel Castro بیسویں صدی کے سب سے نمایاں اور متنازع انقلابی رہنماؤں میں سے ایک تھے جنہوں نے کیوبا کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ 1959 کے انقلاب کے بعد وہ برسوں تک کیوبا کے حکمران رہے اور ملک کو ایک سوشلسٹ ریاست میں تبدیل کر دیا۔

انہوں نے امریکہ کے اثر و رسوخ کو ختم کر کے کیوبا کو سوویت یونین کے قریب کیا، جس کے نتیجے میں سرد جنگ کے دور میں کیوبا امریکہ کی بجائے سویت یونین کے ساتھ جڑا رہا اس لیے شروع سے ہی کیوبا کو امریکہ ناراضی کا سامنا رہا۔
کیوبا کی Cuban Missile Crisis کے دوران امریکہ کے ساتھ شدید کشیدگی پیدا ہوئی۔ ان کے دور میں کیوبا میں صحت اور تعلیم کے شعبوں میں نمایاں بہتری بھی دیکھی گئی، لیکن ساتھ ہی سیاسی آزادیوں پر سخت پابندیاں اور امریکہ کی طویل اقتصادی پابندیوں نے ملک کو مشکل حالات میں بھی رکھا۔
فیڈل کاسترو کو کچھ لوگ ایک انقلابی ہیرو اور کچھ ایک آمر کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن ان کا اثر لاطینی امریکہ اور عالمی سیاست پر آج بھی محسوس کیا جاتا ہے۔
کیوبا کا انقلاب
بیسویں صدی کے سب سے نمایاں اور متنازع انقلابی رہنماؤں میں سے ایک فیڈل کاسترو تھے جنہوں نے کیوبا کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ 1959 کے انقلاب کے بعد وہ برسوں تک کیوبا کے حکمران رہے اور ملک کو ایک سوشلسٹ ریاست میں تبدیل کر دیا۔
انہوں نے امریکہ کے اثر و رسوخ کو ختم کر کے کیوبا کو سوویت یونین کے قریب کیا، جس کے نتیجے میں سرد جنگ کے دوران شدید کشیدگی پیدا ہوئی ۔ ان کے دور میں کیوبا پر سیاسی آزادیوں پر سخت پابندیاں اور امریکہ کی طویل اقتصادی پابندیوں نے ملک کو مشکل حالات میں بھی رکھا۔ فیڈل کاسترو کو کچھ لوگ ایک انقلابی ہیرو اور کچھ ایک آمر کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن ان کا اثر لاطینی امریکہ اور عالمی سیاست پر آج بھی محسوس کیا جاتا ہے۔
کیوبا ایک سوشلسٹ ریاست
کیوبا آج بھی دنیا کے چند آخری سوشلسٹ ممالک میں سے ایک ہے، جہاں حکومت Communist Party of Cuba کے کنٹرول میں ہے۔ موجودہ صدر Miguel Díaz-Canel ملک کی قیادت کر رہے ہیں۔
معیشت کا بڑا حصہ ریاستی کنٹرول میں ہے، جبکہ سیاحت، تمباکو اور سروسز آمدن کے اہم ذرائع ہیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں معاشی کمزوری، مہنگائی اور توانائی کے بحران نے ملک کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔گرچہ ان کی حکومت امریکہ کے ساتھ مزاکرات تو کر رہی ہے تاہم اب تک یہ سب بے معنی حثیت رکھتا ہے۔
سال 1991 میں سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد کیوبا کے حالات بد سے بدتر ہوتے گئے سویت امداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی اور امریکی کشیدگی نے لوگوں کے حالات کو مزید بدتر کر دیا۔ایک بڑی تعداد آبادی کی غربت میں زندگی گزار رہی ہے (تقریباً 30% یا اس سے زیادہ انتہائی غربت میں)
معاشی دباؤ اور بحران
کیوبا کی معیشت کئی برسوں سے سست روی کا شکار ہے۔ مختلف اندازوں کے مطابق ملک کی گروتھ ریٹ تقریباً صفر یا بعض اوقات منفی سطح کے قریب رہی ہے۔ ایندھن کی کمی، بجلی کی بندش اور درآمدات میں مشکلات نے عام شہری کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔کئی علاقوں میں روزانہ 10 سے 20 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ جاری ہے۔کیوبا کی آبادی
1 کروڑ 8 لاکھ (10.8 million) کے قریب ہے اور لوگ غربت کی وجہ سے ملک کو ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔کیوبا کی 30 فیصد آبادی انتہائی غربت کی حالت میں رہ رہی ہے۔
کیوبا کے سگار ایک عالمی برانڈ
معاشی مشکلات کے باوجود کیوبا دنیا بھر میں اپنے اعلیٰ معیار کے سگار کے لیے مشہور ہے۔ برانڈز جیسے Cohiba، Montecristo اور Romeo y Julieta عالمی لگژری مارکیٹ میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ یہ صنعت ملک کی محدود مگر قیمتی برآمدات میں شمار ہوتی ہے۔
امریکہ کیوبا طویل تنازع
کیوبا اور امریکہ کے تعلقات دہائیوں سے کشیدہ ہیں۔ 1960 کی دہائی میں امریکہ نے کیوبا پر تجارتی پابندیاں (embargo) لگائیں، جو آج تک کسی نہ کسی شکل میں جاری ہیں۔
سرد جنگ کے دور میں Cuban Missile Crisis نے دونوں ممالک کو ایٹمی جنگ کے قریب پہنچا دیا تھا۔ اس کے بعد سے تعلقات میں کبھی بہتری آئی اور کبھی سختی بڑھتی رہی۔
صدر ٹرمپ کا دباو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ Donald Trump نے 16 مارچ 2026 کو وائٹ ہاؤس، Oval Office میں رپورٹرز سے
کہا کہ "مجھے یقین ہے کہ مجھے کیوبا لینے کا اعزاز حاصل ہوگا۔ یہ ایک بڑا اعزاز ہے۔
کیوبا کو کسی نہ کسی شکل میں لینا۔ یعنی، چاہے میں اسے آزاد کروں یا قبضہ کر لوں ، مجھے لگتا ہے کہ میں اس کے ساتھ جو چاہوں کر سکتا ہوں، تمہیں حقیقت جاننی ہے۔
وہ فی الحال ایک بہت کمزور ملک ہے۔”
میں نے یہ زبردست فوج بنائی ہے۔ میں نے کہا تھا کہ ‘تمہیں اسے کبھی استعمال نہیں کرنا پڑے گا’۔ لیکن کبھی کبھی اسے استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اور کیوبا اگلا ہے،CUBA IS NEXT ویسے۔ لیکن فرض کرو کہ میں نے یہ نہیں کہا۔
براہ مہربانی، میڈیا والو، براہ مہربانی اس بیان کو نظر انداز کر دو۔ شکریہ بہت — کیوبا اگلا ہے۔”
حالیہ عرصے میں ڈونلڈ ٹرمپ Donald Trump کی پالیسیوں کے تحت کیوبا پر دوبارہ دباؤ بڑھ گیا ہے اور حالات مزید بد تر ہو رہے ہیں۔
- اقتصادی پابندیوں میں سختی
- وینزویلا سے تیل کی سپلائی روکنے کی کوشش
- کیوبا کو توانائی کے بحران میں مزید دباؤ
اس کے نتیجے میں کیوبا میں ایندھن کی کمی اور بجلی کی بندش جیسے مسائل بڑھ گئے ہیں۔
امریکہ کی پالیسی کا مقصد کیوبا کی حکومت پر دباؤ ڈالنا اور سیاسی تبدیلی کو فروغ دینا بتایا جاتا ہے، جبکہ کیوبا اسے اپنی خودمختاری کے خلاف سمجھتا ہے۔
عالمی ردعمل
کئی ممالک، جن میں میکسیکو، برازیل اور اسپین شامل ہیں، نے کیوبا کی خودمختاری کے احترام اور انسانی امداد بڑھانے پر زور دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ پابندیوں کے بجائے انسانی بحران پر توجہ دی جانی چاہیے۔اور ان ممالک کی جانب سے کیوبا میں امداد بڑھانے کے اعلانات ہو چکے ہیں۔
امریکہ کے ساتھ کیوبا اس کے تعلقات اب بھی غیر مستحکم اور کشیدہ ہیں، اور مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا دونوں ممالک دباؤ کی سیاست سے آگے بڑھ کر کسی نئے سفارتی راستے کی طرف جاتے ہیں یا نہیں۔
یہ بھی پڑھئِے


