روس نے ایران سے افزودہ یورینیم کی ممکنہ منتقلی میں کردار ادا کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔ روسی ریاستی جوہری ادارے روساٹم کے سربراہ الیکسی لیکاچیف کے مطابق ماسکو اس بات پر غور کر رہا ہے کہ وہ اس عمل میں تکنیکی مدد فراہم کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں نہ صرف تکنیکی پیچیدگیاں موجود ہیں بلکہ ایران اور امریکہ کے درمیان اعتماد کا فقدان بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ ان کے مطابق روس کو ایران کے ساتھ اس نوعیت کے تعاون کا پہلے بھی تجربہ حاصل ہے، اور 2015 میں بھی ایران کی درخواست پر افزودہ یورینیم کی منتقلی میں مدد فراہم کی گئی تھی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ “بہت اچھی بات چیت” جاری ہے، تاہم وہ تہران کو آبنائے ہرمز کے معاملے پر کسی قسم کی “بلیک میلنگ” کی اجازت نہیں دیں گے۔ اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران گزشتہ 47 برسوں سے اسی طرزِ عمل پر قائم رہا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ایران پر امریکی دباؤ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک دونوں ممالک کے درمیان تمام معاملات “100 فیصد مکمل” نہیں ہو جاتے۔ اس سے قبل بھی وہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی اقدامات اور پابندیوں کے تسلسل کا اشارہ دے چکے ہیں۔
ادھر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک الگ دعوے میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک نیا معاہدہ “بہت قریب” ہے اور تہران تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم دینے پر آمادہ ہو چکا ہے۔ تاہم ایران کی وزارت خارجہ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس نوعیت کا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا
یہ بھی پڑھئِں


