تحریر:طارق اقبال چوہدری

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ نے کارسپانڈنٹ ڈنر میں فائرنگ کے واقعہ کے بعد ایک بیان میں وائٹ ہاوس میں ایک نئے بال روم کی اہمیت اور افادیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر وائٹ ہاؤس میں ایک بڑا اور بہتر “بال روم” ہوتا تو بعض بڑے اجتماعات یا تقریبات کو زیادہ بہتر طریقے سے سنبھالا جا سکتا تھا، اور اس طرح کے ناخوشگوار واقعات سے بچاؤ میں مدد مل سکتی تھی۔
وائٹ ہاؤس نے 20 کروڑ ڈالر (تقریباً 151 ملین پاؤنڈ) مالیت کے ایک نئے شاندار بال روم کی تعمیر کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ Donald Trump کی دیرینہ خواہش کی تکمیل قرار دیا جا رہا ہے۔
اعلان کے مطابق یہ نیا بال روم White House East Wing کے ساتھ تعمیر کیا جائے گا، جسے جدید خطوط پر ازسرنو ڈیزائن کیا جائے گا۔ اس حصے میں اس وقت خاتونِ اول Melania Trump کے دفاتر سمیت اہم انتظامی دفاتر موجود ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان Karoline Leavitt کے مطابق منصوبے کی فنڈنگ صدر ٹرمپ اور نجی عطیہ دہندگان کے ذریعے کی جائے گی، جبکہ تعمیراتی کام رواں سال ستمبر میں شروع ہونے کی توقع ہے۔
اس منصوبے کوخاتون اول ملانیا ٹرمپ سے بھی جوڑا جاتا ہے تاہم یہ منصّبہ صدر ٹرمپ اپنا دکھائی دیتا ہے کیونکہ وہ اس کی شروع سے ہی بات کرتے چلے آئے ہیں گرچہ میلانیا ٹرمپ Melania Trump بطور خاتونِ اول زیادہ خوبصورت اور وسیع تقریباتی جگہ کی حامی تھیں،
وائٹ ہاوس کی تاریخ
امریکہ کے صدر کی سرکاری رہائش گاہ اور دنیا کی سب سے معروف سرکاری عمارتوں میں سے ایک ہے۔ اس کی تعمیر 1792 میں شروع ہوئی اور اسے آئرش نژاد امریکی معمار جیمز ہوابن نے ڈیزائن کیا تھا۔ عمارت 1800 میں مکمل ہوئی اور اسی سال صدر جان ایڈمز اس میں منتقل ہونے والے پہلے صدر بنے۔
1812 کی جنگ کے دوران 1814 میں برطانوی فوج نے واشنگٹن پر حملہ کیا اور وائٹ ہاؤس کو آگ لگا دی گئی، جس کے بعد اسے دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ دوبارہ تعمیر کے دوران اس کا اصل ڈھانچہ برقرار رکھا گیا لیکن کچھ حصوں میں تبدیلیاں بھی کی گئیں۔

وقت کے ساتھ ساتھ وائٹ ہاؤس میں کئی توسیعات اور تبدیلیاں کی گئیں۔ 1902 میں صدر تھیوڈور روزویلٹ کے دور میں اس کی بڑی تزئین و آرائش ہوئی اور اسے جدید انتظامی ضروریات کے مطابق ڈھالا گیا۔ بعد میں 1948 سے 1952 کے دوران صدر ہیری ٹرومین کے دور میں عمارت کی مکمل اندرونی بحالی کی گئی، کیونکہ اس کا ڈھانچہ کمزور ہو چکا تھا۔
White House نہ صرف امریکی صدور کی رہائش گاہ ہے بلکہ یہ عالمی سیاست، سفارت کاری اور اہم سرکاری تقاریب کا مرکزی مقام بھی ہے۔ اس کے مختلف حصے جیسے اوول آفس، ایسٹ روم اور ساؤتھ لان دنیا بھر میں مشہور ہیں۔اب تک 47 امریکی صدور وائٹ ہاوس میں قیام پذیر ہو چکے ہیں۔اوول آفس Oval Office وائٹ ہاؤس کے اندر صدرِ امریکہ کا اصل کام کرنے کا دفتر ہے، جہاں سب سے اہم فیصلے کیے جاتے ہیں۔
آج یہ عمارت امریکی تاریخ، جمہوریت اور سیاسی طاقت کی علامت سمجھی جاتی ہے اور ہر سال لاکھوں افراد اس کا بیرونی دورہ کرتے ہیں.
وائٹ ہاوس میں سابق صدور کی یادگاری اشیا
یہ عمارت دراصل ایک زندہ میوزیم کی حیثیت رکھتی ہے جہاں ہر صدر اپنے دور حکومت کی اہم اشیاء اور غیر ملکی تحائف چھوڑتا ہے۔ یہ یادگاریں امریکی تاریخ، جمہوریت اور مختلف ادوار کی پالیسیوں کی نمائندگی کرتی ہیں اور وائٹ ہاؤس کو ایک تاریخی اور ثقافتی ورثہ بناتی ہیں۔

یہ عمارت دراصل ایک زندہ میوزیم کی حیثیت رکھتی ہے جہاں ہر صدر اپنے دور حکومت کی اہم اشیاء اور غیر ملکی تحائف چھوڑتا ہے۔ یہ یادگاریں امریکی تاریخ، جمہوریت اور مختلف ادوار کی پالیسیوں کی نمائندگی کرتی ہیں اور وائٹ ہاؤس کو ایک تاریخی اور ثقافتی ورثہ بناتی ہیں۔
White House کے اندر مختلف امریکی صدور کے دور کی یادگاری اشیاء محفوظ کی جاتی ہیں، جن میں تصاویر، تحائف، آرٹ ورک اور تاریخی دستاویزات شامل ہوتی ہیں۔

اس ٹور میں شامل ہونے والی نئی جگہوں میں سے ایک ڈپلومیٹک ریسیپشن روم(Diplomatic Reception Room White house) ہے، جہاں سابق صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے اپنے مشہور “فائر سائیڈ چیٹس” (ریڈیو خطاب) کیے تھے۔
خاص طور پر جارج واشنگٹن، ابراہم لنکن، جان ایف کینیڈی، رونالڈ ریگن اور باراک اوباما جیسے صدور سے منسوب یادگار اشیاء وائٹ ہاؤس کے مختلف حصوں میں رکھی گئی ہیں، جو ہر دور کی سیاسی اور تاریخی جھلک پیش کرتی ہیں۔
نئے بال روم کی تفصیل

تفصیلات کے مطابق مجوزہ بال روم تقریباً 90 ہزار مربع فٹ پر مشتمل ہوگا اور اس میں 650 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہوگی۔ اس وقت زیادہ تر سرکاری تقریبات White House East Room میں منعقد کی جاتی ہیں، جہاں صرف محدود تعداد میں مہمانوں کی گنجائش موجود ہے۔
حکام کے مطابق نئے ہال کی تعمیر سے بڑے سرکاری ایونٹس کے لیے لگائے جانے والے عارضی خیموں کی ضرورت ختم ہو جائے گی، جو اکثر عالمی رہنماؤں کی موجودگی میں ہونے والی تقریبات میں استعمال ہوتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس حکام کے مطابق اس منصوبے میں تاریخی عمارت کے تحفظ کو مدنظر رکھا گیا ہے اور اسے مستقبل کی انتظامیہ کے لیے بھی مفید بنایا جائے گا۔
منصوبے کے ابتدائی ڈیزائنز کے مطابق نیا بال روم وائٹ ہاؤس کے روایتی طرزِ تعمیر سے ہم آہنگ ہوگا، جس میں پرتعیش اندرونی سجاوٹ، جھاڑ فانوس اور آرائشی ستون شامل ہوں گے۔
دوسری جانب تاریخی ورثے کے تحفظ سے وابستہ ماہر Leslie Greene Bowman نے امید ظاہر کی ہے کہ تعمیر کے دوران عمارت کی اصل تاریخی حیثیت کو برقرار رکھا جائے گا۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ اس منصوبے کی خواہش کئی برسوں سے ظاہر کرتے آ رہے ہیں اور 2016 میں انہوں نے اس کی تعمیر کے لیے 10 کروڑ ڈالر کی پیشکش بھی کی تھی، جسے اس وقت کی انتظامیہ نے مسترد کر دیا تھا۔
نئے بال روم پر تنقید کیوں؟
صدر Donald Trump کی جانب سے White House میں مجوزہ نئے بال روم پر سب سے بڑی تنقید اس کی ضرورت اور جواز پر کی جا رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق سکیورٹی کو بنیاد بنا کر اس منصوبے کو پیش کیا جا رہا ہے، حالانکہ وائٹ ہاؤس میں پہلے ہی اعلیٰ درجے کے سکیورٹی انتظامات موجود ہیں اور بڑے سرکاری عشائیے اکثر دیگر محفوظ مقامات پر بھی منعقد کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ منصوبہ سکیورٹی سے زیادہ سیاسی نمائش اور بااثر افراد کے لیے خصوصی تقریبات کے انعقاد کا ذریعہ بن سکتا ہے، جس سے سرکاری عمارت کے غیرجانبدار تشخص پر سوال اٹھتا ہے۔
دوسری جانب اس منصوبے کی لاگت، قانونی حیثیت اور تاریخی اثرات بھی شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ تقریباً سینکڑوں ملین ڈالر کے اس منصوبے کو غیر ضروری سرکاری خرچ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ بعض حلقے اسے ٹیکس دہندگان پر بوجھ سمجھتے ہیں۔ مزید یہ کہ وائٹ ہاؤس ایک تاریخی عمارت ہے، اس میں بڑی تعمیراتی تبدیلیاں اس کی اصل ساخت اور ورثے کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر اس منصوبے کے لیے مکمل قانونی اور کانگریسی منظوری نہیں لی گئی تو یہ ایک انتظامی حد سے تجاوز (overreach) تصور ہو سکتا ہے، جس سے مزید سیاسی اور عدالتی تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئیے


