برطانیہ کے بادشاہ کنگ چارلس سوم اور ملکہ ملکہ کیملا نے بادشاہت سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے دورۂ امریکہ کا آغاز کر دیا ہے۔ وہ پیر کے روز جوائنٹ بیس اینڈریوز پہنچے، جہاں سے ان کے چار روزہ دورے کا باقاعدہ آغاز ہوا۔
BREAKING: The King and Queen are greeted by President Trump and the First Lady at the White House.@SkyYaldaHakim | https://t.co/vQTO7fOScm pic.twitter.com/WSqDIlj3Xp
— Sky News (@SkyNews) April 27, 2026
دورے کا مقصد اور اہمیت
برطانوی سفارتخانے کے مطابق اس دورے کا مقصد امریکہ اور برطانیہ کے درمیان مشترکہ تاریخ، مضبوط معاشی و دفاعی تعلقات اور عوامی روابط کو مزید فروغ دینا ہے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔وائٹ ہاوس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتون اول ملانیا ٹرمپ نے معزز محمانوں کا استقبال کیا۔
حالیہ سکیورٹی واقعے کا پس منظر
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس میں ایک مسلح شخص نے سکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر حکام کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا، جبکہ ایک اہلکار زخمی ہوا جو اب صحت یاب ہو چکا ہے۔
🇺🇸 The King and Queen have arrived in Washington DC to begin a four-day State Visit to the USA, on the advice of His Majesty’s Government, and at the invitation of The President of the United States. pic.twitter.com/aHETKd10t5
— The Royal Family (@RoyalFamily) April 27, 2026
شاہی پروگرام اور ملاقاتیں
واشنگٹن ڈی سی میں صدر ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ شاہی جوڑے کا استقبال کریں گے۔ اس موقع پر وائٹ ہاؤس میں خصوصی ملاقات، باغیچہ تقریب اور سرکاری عشائیہ بھی منعقد ہوگا۔ بادشاہ چارلس امریکی کانگریس سے خطاب بھی کریں گے، جو ایک تاریخی موقع ہوگا۔2007 میں ملکہ الزبتھ دوم نے جیمز ٹاؤن کی سالگرہ کے موقع پر امریکہ کا دورہ کیا تھا۔
نیویارک اور دیگر سرگرمیاں
اس کے بعد شاہی جوڑا نیویارک جائے گا، جہاں وہ 11 ستمبر کے حملوں کے متاثرین کے اہل خانہ اور امدادی کارکنوں سے ملاقات کرے گا۔ اس کے علاوہ مختلف فلاحی اور کاروباری تقریبات میں بھی شرکت کرے گا۔
دورے کا اختتامی مرحلہ
دورے کے آخری مرحلے میں وہ ورجینیا جائیں گے، جہاں مقامی ثقافتی پروگرامز، کمیونٹی ایونٹس اور امریکہ کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات میں حصہ لیں گے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
یہ بھی پڑھئِے


