امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی بحری حکمتِ عملی میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے اپنے سب سے بڑے طیارہ بردار جہاز USS Gerald R. Ford کو واپس اپنے ہوم پورٹ بھیج دیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ جنگی بحری جہاز اب یورپ کے عسکری دائرہ کار میں داخل ہو چکا ہے اور جلد ہی اپنے مستقل اڈے Naval Station Norfolk پہنچ جائے گا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس پیش رفت کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کے دو بڑے طیارہ بردار بیڑے بدستور موجود ہیں، جن میں USS Abraham Lincoln اور USS George H. W. Bush شامل ہیں۔ اس کے علاوہ خطے میں تقریباً 20 امریکی بحری جہازوں کی موجودگی برقرار ہے، جو واشنگٹن کی مسلسل عسکری موجودگی کو ظاہر کرتی ہے۔
USS Gerald R. Ford گزشتہ دس ماہ سے زائد عرصے تک مختلف مشنز پر تعینات رہا، جہاں اس نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں ایران سے متعلق آپریشنز میں کردار ادا کیا بلکہ کیریبین اور دیگر سمندری علاقوں میں بھی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ تاہم اس طویل تعیناتی کے دوران جہاز کو کئی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا، جن میں مارچ کے دوران لگنے والی آگ کا واقعہ شامل ہے جس میں دو اہلکار زخمی ہوئے اور جہاز کو جزوی نقصان پہنچا۔ عملے کو رہائشی اور تکنیکی مسائل کا بھی سامنا رہا۔
امریکی حکام کا موقف
ادھر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان اس وقت ایک غیر رسمی جنگ بندی برقرار ہے، لیکن خطے کی صورتحال اب بھی حساس ہے۔ خاص طور پر Strait of Hormuz میں کشیدگی برقرار ہے، جہاں ایران کی سرگرمیاں اور امریکی بحری نگرانی دونوں جاری ہیں۔
مزید پڑھئِے
نوبیل امن انعام 2026 کے لیے نامزدگیاں ، اہم شخصیات شامل – urdureport.com
نئی ایرانی تجاویز قابل قبول نہیں،ٹرمپ – urdureport.com
تجزیہ کاروں کے مطابق USS Gerald R. Ford کی واپسی وقتی طور پر کشیدگی میں کمی کا اشارہ ہو سکتی ہے، لیکن خطے میں امریکی بحری طاقت کی نمایاں موجودگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ صورتحال ابھی مکمل طور پر معمول پر نہیں


