امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ Donald trump نے کانگریس کو آگاہ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ بندی کے بعد امریکی فوجی کارروائیاں عملاً ختم ہو چکی ہیں، اس لیے مزید عسکری کارروائی جاری رکھنے کے لیے انہیں قانون سازوں سے نئی منظوری درکار نہیں۔
کانگریس میں اس معاملے پر نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا ایران کے خلاف کارروائی کو باضابطہ منظوری کے لیے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں ووٹنگ کرائی جائے۔
اگرچہ ماضی میں ڈیموکریٹس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی کوششیں ناکام رہی ہیں، تاہم بعض ریپبلکن ارکان نے اشارہ دیا ہے کہ 60 روزہ مدت مکمل ہونے کے بعد وہ اپنا مؤقف بدل سکتے ہیں۔
دوسری جانب جنگ بندی کے باوجود تہران اور واشنگٹن کے درمیان مستقل معاہدہ تاحال طے نہیں ہو سکا۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے Islamic Republic News Agency کے مطابق ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکہ کو مذاکرات کی ایک نئی تجویز بھجوائی ہے، تاہم اس کی تفصیلات منظرِ عام پر نہیں لائی گئیں۔ یہ بھی واضح نہیں کہ آیا یہ تجویز امریکی حکام تک پہنچ چکی ہے یا نہیں۔
مزید پڑھئِے
نئی ایرانی تجاویز قابل قبول نہیں،ٹرمپ – urdureport.com
بدنام زمانہ جیفری ایپسٹین کا خود کشی سے قبل لکھا گیا نوٹ مل گیا – urdureport.com
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ ایران کے ساتھ حالیہ رابطہ ہوا ہے، لیکن انہوں نے ایرانی پیشکش پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت اس وقت شدید داخلی الجھن کا شکار ہے، خصوصاً حالیہ تنازع میں کئی اعلیٰ فوجی شخصیات کی ہلاکت کے بعد۔
صدر ٹرمپ کے مطابق انہیں امریکی سینٹرل کمانڈ نے مختلف آپشنز پر بریفنگ دی، جن میں سخت عسکری کارروائی سے لے کر سفارتی معاہدے تک تمام امکانات شامل تھے۔


