امریکہ میں بدنام زمانہ کیس سے جڑے ایک نئے انکشاف نے جیفری ایپسٹین Jeffrey Epstein کی موت سے متعلق بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے، جہاں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان کی مبینہ خودکشی سے قبل لکھا گیا ایک نوٹ عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ نوٹ ایپسٹین کے سابق سیل میٹ نکولس ٹارٹالیانو کے ذریعے سامنے آیا، جن کا کہنا ہے کہ انہیں 2019 میں جیل کے دوران یہ تحریر ملی تھی۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس دستاویز کو ایک قانونی مقدمے کے تحت عدالت میں جمع تو کرا دیا گیا، تاہم اسے تاحال عوام کے لیے جاری نہیں کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق یہ نوٹ کئی برسوں سے امریکی عدالت میں سیل ہے اور اس کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس میں ایپسٹین نے اپنی صورتحال اور جاری تحقیقات پر کچھ خیالات کا اظہار کیا تھا، مگر اس کی اصل عبارت اب تک خفیہ رکھی گئی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 2019 میں جیل میں ہونے والی ایپسٹین کی موت پہلے ہی شکوک و شبہات اور مختلف سازشی نظریات کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ناقدین ماضی میں جیل کی سیکیورٹی اور عدالتی نظام پر بھی سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نئے دعوے نے کیس کے گرد موجود غیر یقینی صورتحال کو مزید گہرا کر دیا ہے، اور جب تک اس نوٹ کو باضابطہ طور پر منظر عام پر نہیں لایا جاتا، اس معاملے پر قیاس آرائیاں جاری رہنے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھئِے


