پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع معروف رہائشی و تجارتی منصوبہ One Constitution Avenue ایک بار پھر قانونی اور انتظامی تنازع کے باعث خبروں کی زینت بن گیا ہے۔ اسلام آباد انتظامیہ اور Capital Development Authority (سی ڈی اے) کی جانب سے عمارت خالی کرانے کے لیے کیے گئے اچانک آپریشن کو وزیراعظم کی مداخلت کے بعد عارضی طور پر روک دیا گیا ہے، جبکہ پورے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
اس ساری صورتحال میں یہ بات زبان زد عام ہے کہ اس بڑے منصّوبے پر بری امام کی طرز پر سی ڈی اے اپریشن کرئے گا یا اشرافیہ کو استثنیِ ملے گا ۔اس ٹوئن ٹاور میں سابق وزرا اعظم سابق چیف جسٹس صاحبان اور بڑے بڑے بزنس میں اور حکومتی اعلیٰ عہدیداران کے فلیٹ ہیں اور ان کی قیمت بیس پچس کروڑ سے کم نہیں ،لوگوں کے ذہنوں میں ایک بڑا سوال یہ بھی اٹح رہا ہے کہ اس بڑے منصّبے ساتھ ہی وزیر اعظم نے غریبوں کی جونھپڑیوں کو گرانے کے وقت اپریشن کیوں نہ رکوایا ؟

وزیر اعظم کی کمیٹی
وزیراعظم آفس کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف Shehbaz Sharif کی ہدایت پر وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڈ پاکستان کے دارالحکومت Islamabad کے ریڈ زون میں واقع معروف رہائشی و تجارتی منصوبہ One Constitution Avenue ایک بار پھر قانونی اور انتظامی تنازع کے باعث خبروں کی زینت بن گیا ہے۔ اسلام آباد انتظامیہ اور Capital Development Authority (سی ڈی اے) کی جانب سے عمارت خالی کرانے کے لیے کیے گئے اچانک آپریشن کو وزیراعظم کی مداخلت کے بعد عارضی طور پر روک دیا گیا ہے، جبکہ پورے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق وزیرِاعظم Shehbaz Sharif کی ہدایت پر وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڈ Azam Nazeer Tarar کی سربراہی میں قائم کمیٹی ایک ہفتے کے اندر معاملے کی مکمل رپورٹ پیش کرے گی۔ اس دوران سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ عمارت کے خلاف مزید کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ متاثرہ رہائشی اور دیگر فریقین کمیٹی کے سامنے اپنا مؤقف پیش کر سکیں گے۔
اسلام اباد ہائی کورٹ کا فیصلہ
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب Islamabad High Court نے حالیہ فیصلے میں سی ڈی اے کی جانب سے عمارت کی لیز منسوخی کو برقرار رکھا، جس کے بعد جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب بھاری پولیس نفری اور سی ڈی اے اہلکار عمارت پہنچے۔ رہائشیوں کے مطابق رات گئے دروازے کھٹکھٹائے گئے اور متعدد افراد کو مختصر وقت میں فلیٹس خالی کرنے کے احکامات دیے گئے۔
عمارت کے کئی رہائشیوں اور کرایہ داروں نے کارروائی کے طریقہ کار پر شدید اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے غیر انسانی اور ہراسان کن قرار دیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ وہ برسوں سے قانونی طور پر رہائش پذیر ہیں اور اگر تنازع موجود بھی تھا تو انہیں مناسب پیشگی نوٹس اور متبادل انتظام کے لیے وقت دیا جانا چاہیے تھا۔
اصل تنازع کیا ہے ؟
ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا تنازع دراصل دو دہائیوں پر محیط قانونی پیچیدگیوں سے جڑا ہے۔ منصوبہ اصل میں ایک فائیو اسٹار ہوٹل کمپلیکس کے طور پر منظور ہوا تھا، تاہم بعدازاں اسے لگژری رہائشی اپارٹمنٹس اور کمرشل یونٹس میں تبدیل کر دیا گیا۔ سی ڈی اے کا مؤقف ہے کہ یہ تبدیلی لیز معاہدے اور بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی تھی، اسی بنیاد پر 2016 میں لیز منسوخ کی گئی۔
بعد ازاں 2019 میں سپریم کورٹ نے اُس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار Saqib Nisar کی سربراہی میں ایک فیصلے کے ذریعے مخصوص شرائط کے ساتھ منصوبہ بحال کیا اور کمپنی کو اربوں روپے واجبات ادا کرنے کی ہدایت کی۔ تاہم سی ڈی اے کے مطابق کمپنی مقررہ ادائیگیاں مکمل نہ کر سکی، جس کے بعد 2023 میں لیز دوبارہ منسوخ کر دی گئی۔
سی ڈی اے کو دوہرا معیار
حکومتی مؤقف ہے کہ ریاستی رٹ قائم رکھنے کے لیے قانون کا یکساں اطلاق ضروری ہے، چاہے معاملہ غریب آبادیوں کا ہو یا اشرافیہ کی رہائش گاہوں کا۔ دوسری جانب ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر منصوبے میں خلاف ورزیاں ابتدا ہی سے موجود تھیں تو متعلقہ ادارے برسوں تک خاموش کیوں رہے، اور اب خریداروں اور کرایہ داروں کو اس کا خمیازہ کیوں بھگتنا پڑ رہا ہے۔
یہ معاملہ سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بھی شدید بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ بعض مبصرین اسے قانون کی بالادستی کی مثال قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر کے نزدیک یہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے نقصان دہ پیغام ہے۔ اب نظریں حکومتی کمیٹی کی رپورٹ پر مرکوز ہیں، جو یہ طے کرے گی کہ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے رہائشیوں اور سرمایہ کاروں کا مستقبل کیا ہوگا۔
یہ بھی پڑھئِے


