نیویارک کے مئیر ظہران ممدانی نے امریکہ کے دورے پر آئے ہوئے کنگ چارلس سے کوہ نور ہیرا واپس کرنے کا مطالبہ کیا ہے ،کوہ نور جس کے چار ممالک واپسی کے دعویدار ہیں اس کو لاھور سے برطانیہ لے جایا گیا اور آج بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کا اصل مالک کون ہو گا پاکستان ، ایران افغانستان یا بھارت ؟
مئیر نیویارک زہران ممدانی نے کنگ چارلس سے کوہ نور ہیرا واپس کرنے کا مطالبہ کر دیا pic.twitter.com/CUIiybtcDV
— Urdu Report (@UrduReportpk) April 30, 2026
کوہ نورKoh-i-Noor diamond ہیرا جو کہ مرغی کے انڈے کے سائز کے برابر تھا اور کہا جاتا تھا کہ اسے فروخت کر کے ساری دنیا کے لوگوں کو ڈھائی دن تک کھانا کھلایا جاسکتا ہے۔لیکن اس کی اصل اہمیت اس سے بڑھ کر ہے کہ کوہ نور محض ایک قیمتی پتھر نہیں بلکہ طاقت، سیاست اور تاریخ کا استعارہ ہے۔ اس کی کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دولت اور طاقت کے پیچھے اکثر خون، سازشیں اور سلطنتوں کا زوال چھپا ہوتا ہے۔
کوہ نور کیا واقعی چرایا گیا ؟

کوہِ نور (”روشنی کا پہاڑ“)”Mountain of Light” ہیرا، جو اس وقت برطانوی شاہی جواہرات کا حصہ ہے، برصغیرِ پاک و ہند میں سلطنتوں کے عروج اور زوال کا گواہ رہا ہے۔29 مارچ 1849 کی صبح لاہور قلعہ کے شیش محل میں ایک ایسا منظر رقم ہوا جس نے برصغیر کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ کم عمر مہاراجہ دلیپ سنگھ Maharaja Daleep Singh، جو صرف دس برس کے تھے، انگریز افسران کے حصار میں کھڑے تھے۔ والد مہاراجہ رنجیت سنگھ کے انتقال اور والدہ رانی جندن کور کی جبری علیحدگی کے بعد وہ تنہا رہ گئے تھے۔ اسی روز ایک دستاویز پر دستخط کے ساتھ نہ صرف سکھ سلطنت کا خاتمہ ہوا بلکہ برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی نے پنجاب پر قبضہ جما لیا,اور دنیا کا مشہور ہیرا کوہ نور بھی ان کے ہاتھ آ گیا۔برطانیہ کوہ نور کو فتوحات کی ایک علامت سمجھتا ہے۔
کوہ نور تاج برطانیہ میں کہاں جڑا ہے؟
کوہِ نور (کوہ نور) برطانوی شاہی جواہرات میں شامل ملکہ الزبتھ ملکہ مادر کا تاج کے بالکل درمیانی حصے (مرکزی فرنٹ سیکشن) میں جڑا ہوا ہے۔یہ ہیرا تاج کے اگلے حصے میں مرکزی نمایاں مقام پر نصب ہے، یعنی تاج کے سامنے والے حصے میں سب سے نمایاں پتھر کے طور پر دکھائی دیتا ہے، جہاں اسے خاص طور پر نمائش اور شاہی تقریبات کے دوران نمایاں رکھا جاتا ہے۔
سابق وزیر اطلاعات پاکستان کا مطالبہ
Fully endorse the demand that British empire must apologise to the nations of Pakistan, India and Bangladesh on Jallianwala Massacre and Bengal famine .. these tragedies are the scar on the face of Britain, also KohENoor must be returned to Lahore museum where it belongs
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) April 11, 2019
پاکستان کے سابق وزیر اطلاعات فود چوہدری نے انگلستان سے مطالبہ کیا تھا کہ کوہ نور ہیرا پاکستان کو واپس Pakistan Koh-i-Noor return claim کیا جائے اور اس کو میوزیم میں رکھا جائے،انہوں نے لکھا”میں مکمل طور پر اس مطالبے کی تائید کرتا ہوں کہ برطانوی سلطنت کو جلیانوالہ باغ کے قتل عام اور بنگال کے قحط پر پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کی اقوام سے معذرت کرنی چاہیے۔ یہ سانحات برطانیہ کے چہرے پر ایک داغ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح کوہ نور ہیرا بھی واپس لاہور میوزیم میں ہونا چاہیے جہاں اس کا اصل مقام ہے۔”
بھارت کا موقف
108 قیراط کا کوہِ نور ہیرا، جو نوآبادیاتی دور میں برطانوی قبضے میں آیا، تاریخی ملکیت کے تنازع کا موضوع ہے اور بھارت سمیت کم از کم چار ممالک اس پر دعویٰ کر چکے ہیں۔اس بارئے بھارت کی سپریم کورٹ میں ایک کوہ نور ہیرے کی واپسی کے بارئے میں ایک کیس Koh-i-Noor return claim case in Indian Supreme courtکی سماعت ہوئی تو اس دوران بھارت کی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ ایک قیمتی ہیرا جو ملکہ مادر کے تاج کا حصہ ہے، برطانیہ کو دیا گیا تھا اور چوری نہیں کیا گیا، Koh-i-Noor not stolen but giftedبھارت کی حکومت نے پیر کے روز سپریم کورٹ کو بتایا، جو اس ہیرا کی واپسی سے متعلق مقدمے کی سماعت کر رہی ہے۔
تاہم بھارت کے سالیسٹر جنرل رنجیت کمار نے کہا کہ 19ویں صدی کے سکھ حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ نے یہ پتھر برطانویوں کو تحفے میں دیا تھا۔یہ ہیرا اس وقت اس تاج میں جڑا ہوا ہے جو ملکہ برطانیہ کی والدہ نے اپنی وفات 2002 تک پہنا تھا، اور اب یہ لندن کے ٹاور میں عوامی نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت عملاً کوہ نور کی واپسی سی دستبردار ہو چکا ہے۔
کوہ نور کے دعویدار کون کون سے ممالک ؟

کوہِ نور (کوہ نور) پر چار ممالک تاریخی اور ثقافتی بنیادوں پر دعویٰ کرتے ہیں جن میں بھارت، پاکستان، افغانستان Koh-i- Noor claim four countriesاور ایران شامل ہیں جبکہ اس وقت یہ تاج برطانیہ British Crown میں جڑا ہے اور شاہی جواہرات میں محفوظ ہے۔
بھارت کا یہ دعویٰ تھا کہ چونکہ یہ ہیرا مغلیہ دور اور بعد میں سکھ سلطنت کے زمانے میں برصغیر کے اندر رہا اور اسے اپنی تاریخی وراثت کا حصہ سمجھتا ہے جس کو اس نے بعد ازاں سپریم کورٹ میں برطانیہ کو ایک تحفہ قرار دیکر واپس لے لیا۔
۔ پاکستان اسے اپنی تاریخ سے جوڑتا ہے، کیونکہ یہ سکھ سلطنت کے آخری دور میں موجودہ پنجاب (جو آج پاکستان کا حصہ ہے) سے تعلق رکھتا تھا، اس لیے اسے خطے کی مشترکہ وراثت قرار دیا جاتا ہے اور اس کو لاھور سے برطانیہ لے جایا گیا اس لیے اس کی اصل جگہ لاھور کا تاریخی میوزیم ہے۔ افغانستان کا مؤقف یہ ہے کہ یہ ہیرا احمد شاہ ابدالی اور دیگر افغان حکمرانوں کے دور میں ان کے پاس بھی رہا، اس لیے وہ بھی اس کا دعویدار ہے۔ ایران بھی اس بنیاد پر دعویٰ کرتا ہے کہ یہ ہیرا نادر شاہ کے ذریعے ایران پہنچا اور وہاں شاہی خزانے کا حصہ رہا۔
کوہِ نور کی کہانی اور طاقت کی علامت
کوہ نور کی ابتدا آج بھی معمہ بنی ہوئی ہے۔ بعض روایات کے مطابق یہ جنوبی ہندوستان کے کسی مندر سے نکالا گیا، جبکہ مستند حوالوں میں اس کا ذکر پہلی بار 18ویں صدی میں ملتا ہے جب نادر شاہ نے دہلی پر حملہ کیا۔ اس وقت یہ ہیرا مغل خزانے کا حصہ تھا اور مشہور تخت طاؤس میں جڑا ہوا تھا۔
1739 میں دہلی کی فتح کے بعد نادر شاہ نے نہ صرف بے پناہ دولت لوٹی بلکہ کوہ نور بھی حاصل کیا۔ روایت ہے کہ اس نے چالاکی سے مغل بادشاہ کی پگڑی بدلوا کر یہ ہیرا اپنے قبضے میں لیا اور اسے ’روشنی کا پہاڑ‘ کا نام دیا۔
کوہ نور کی مالیت
) کوہ نور کی کوئی باقاعدہ مارکیٹ قیمت Koh-i-Noor market value موجود نہیں کیونکہ یہ فروخت کے لیے پیش نہیں کیا جاتا، تاہم اس کی نایابی، تاریخی اہمیت اور معیار کی بنیاد پر ماہرین اس کی ممکنہ مالیت کو اربوں ڈالر تک قرار دیتے ہیں، ان کا خیال ہے کہ اگر اس کو مارکیٹ میں فروخت کیا جائے تو اس کی مالیت 20ارب ڈالر تک لگ سکتی ہے مگر اصل میں یہ ہیرا مالی قیمت سے زیادہ تاریخی اور ثقافتی ورثہ ہونے کی وجہ سے ناقابلِ قیمت سمجھا جاتا ہے۔
ہیرے کا سفر
نادر شاہ کے دہلی میں قتلِ عام کو تاریخ کے بدترین سانحات میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں ہزاروں افراد مارے گئے۔ وہ مغلوں کی صدیوں کی جمع دولت اپنے ساتھ ایران لے گیا۔ اس کے قتل کے بعد کوہ نور مختلف حکمرانوں کے ہاتھوں سے گزرتا ہوا بالآخر 1813 میں مہاراجہ رنجیت سنگھ تک پہنچا، جنہوں نے اسے اپنی شان و شوکت کی علامت بنا لیا۔
رنجیت سنگھ کے بعد سکھ سلطنت کمزور پڑی اور دوسری اینگلو سکھ جنگ کے نتیجے میں برطانوی اقتدار قائم ہو گیا۔ کمسن دلیپ سنگھ سے نہ صرف سلطنت چھینی گئی بلکہ کوہ نور بھی لے لیا گیا۔
کوہ نور کا برطانیہ کا سفر
کوہ نور ہیرا برطانیہ بھیجنے کے لیے جہاز کے ذریعے روانہ کیا گیا، مگر سفر آسان نہ تھا۔ بیماری، سمندری طوفان اور دیگر مشکلات کے باوجود یہ قیمتی خزانہ بالآخر برطانیہ پہنچ گیا، جہاں اسے عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔ لندن میں اس کی نمائش نے بے مثال ہجوم کھینچا اور کوہ نور برطانوی طاقت کی علامت بن گیا۔
ملکہ وکٹوریہ اور دلیپ سنگھ
بعد ازاں ملکہ وکٹوریہ نے اس ہیرے کو اپنے تاج کا حصہ بنایا۔ دلیپ سنگھ، جو بعد میں برطانیہ لے جائے گئے، نے رسمی طور پر یہ ہیرا ملکہ کو پیش کیا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ وہ برطانوی حکومت سے بددل ہو گئے اور اپنی کھوئی ہوئی سلطنت واپس حاصل کرنے کی خواہش رکھتے رہے، مگر کامیاب نہ ہو سکے۔
آج کا کوہِ نور اور اصل مالک
وقت کے ساتھ کوہ نور مختلف شاہی تاجوں کا حصہ بنتا رہا، تاہم اس کے ساتھ ایک عجیب سی بدقسمتی کی کہانیاں بھی جڑی رہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جو بھی اس کو پہنتا ہے اس کے برے دن شروع ہو جاتے ہیں،آج یہ ہیرا ٹاور آف لندن میں محفوظ ہے، جہاں اسے دنیا بھر کے سیاح دیکھنے آتے ہیں۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دنیا کا قیمتی ہیرا جو کہ لاھور سے انگلستان لے جایا گیا اس کو واپس کیا جائے تو اس کی اصل جگہ لاھور میوزیم ہے نہ کوئی کوئی اور دعویدار۔
یہ بھی پڑھیے


