شمالی کوریا کے آمر رہنما کم جونگ اُن Kim Jong Un نے ان فوجیوں کی کھلے عام تعریف کی ہے جنہوں نے یوکرینی افواج کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بجائے خود کو مار ڈالنے کو ترجیح دی، جو اس بات کی اب تک کی سب سے واضح تصدیق ہے کہ پیانگ یانگ کی فوجی پالیسیوں میں انتہائی سخت اور جان لیوا ہدایات شامل ہیں۔
روئٹرز کے مطابق شمالی کوریا کی سرکاری خبر ایجنسی KCNA کی جانب سے پیر کو شائع کیے گئے بیانات میں کم جونگ اُن نے ان فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے “بغیر کسی ہچکچاہٹ کے خود کو تباہ کرنے اور خودکشی کا راستہ چنا” تاکہ وہ اپنی عظیم عزت کی حفاظت کر سکیں۔ یہ بیان روسی حکام اور ان فوجیوں کے اہل خانہ کے سامنے ایک یادگاری تقریب کے دوران دیا گیا۔
کم نے کہا:
“یہ صرف وہی ہیرو نہیں ہیں جنہوں نے اپنی عظیم عزت کے دفاع کے لیے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے خود کو تباہ کرنے اور خودکشی کا راستہ چنا، بلکہ وہ بھی شامل ہیں جو حملہ آور لڑائیوں کے اگلے محاذ پر لڑتے ہوئے مارے گئے۔”
کم جونگ اُن کا اعتراف
یہ پہلا موقع ہے جب کم جونگ اُن Kim Jong Unنے براہِ راست اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ روس کی جانب سے لڑنے والے شمالی کوریائی North Korea فوجی یوکرینی افواج کے ہاتھوں گرفتار ہونے سے بچنے کے لیے کس حد تک گئے۔
رپورٹ کے مطابق روسRussia Ukraine Conflict
کے مغربی علاقے کرسک (Kursk) میں شمالی کوریا نے اندازاً 14,000 فوجی تعینات کیے، جن کے بارے میں جنوبی کوریا، یوکرین اور مغربی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور 6,000 سے زائد فوجیوں کی ہلاکت کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
مہینوں سے انٹیلیجنس رپورٹس، میدانِ جنگ کے شواہد اور منحرف افراد کی گواہیاں یہ ظاہر کرتی رہی ہیں کہ شمالی کوریائی فوجیوں کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ پکڑے جانے کے خطرے کے بجائے دستی بموں سے خود کو اڑا لیں یا خودکشی کر لیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ پالیسی ان چند فوجیوں تک بھی جاری رہی جو زندہ بچ گئے۔ دی گارڈین کے مطابق یوکرین کے ہاتھوں قید دو شمالی کوریائی قیدیوں نے بھی خود کو دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی تھی لیکن شدید زخمی ہونے کے باعث ناکام رہے۔ ان میں سے ایک قیدی نے مبینہ طور پر یہ اعتراف کیا کہ وہ یہ حکم پورا نہ کر سکنے پر خود کو مجرم سمجھتا ہے۔
کم جونگ اُن کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ میدانِ جنگ کی یہ رپورٹس اب ریاستی سطح پر تسلیم شدہ نظریے کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔
گولیاں کھانے والے فوجی
کم نے مزید کہا:
“وہ لوگ جو گولیاں اور گولے لگنے سے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کی اذیت برداشت کرنے کے بجائے اپنا فرض پورا نہ کر سکنے پر مایوسی میں تڑپے—یہ بھی پارٹی کے وفادار سپاہی اور محبِ وطن کہلانے کے مستحق ہیں۔”
یہ بیان شمالی کوریا کی فوج میں مسلط انتہائی سخت نظریاتی کنٹرول کو ظاہر کرتا ہے، جہاں وفاداری صرف جنگ تک محدود نہیں بلکہ اپنی جان قربان کرنے تک جاتی ہے۔
یہ پیش رفت پیانگ یانگ اور ماسکو کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی تعلقات کو بھی نمایاں کرتی ہے۔ جنوبی کوریا کی انٹیلیجنس کے مطابق شمالی کوریا نے روس کو نہ صرف فوجی دستے فراہم کیے بلکہ گولہ بارود بھی دیا، جبکہ بدلے میں اقتصادی امداد اور فوجی ٹیکنالوجی حاصل کی۔
مزید پڑھئِے


