واشنگٹن: ایک وفاقی جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر مبینہ قاتلانہ حملے کے ملزم Cole Allen کے ساتھ جیل میں روا رکھے گئے سلوک پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس سے معذرت کی ہے۔ جج نے قرار دیا کہ ملزم کو غیر ضروری طور پر انتہائی سخت حالات میں رکھا گیا، جو انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔
استغاثہ کے مطابق 31 سالہ کول ایلن پر الزام ہے کہ اس نے White House Correspondents’ Association کے سالانہ عشائیے میں داخل ہو کر ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ گرفتاری کے بعد اسے وفاقی تحویل میں لے کر خودکشی کے خدشے کے پیش نظر خصوصی نگرانی میں رکھا گیا۔
مجسٹریٹ جج Zia Faruqui نے سماعت کے دوران محکمہ اصلاحات کے حکام سے سخت سوالات کیے اور کہا کہ وہ ملزم کے ساتھ کیے گئے سلوک پر "حیران اور پریشان” ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ایلن کو 24 گھنٹے ایک محفوظ سیل میں بند رکھا گیا، فون اور ملاقات کی سہولت سے محروم رکھا گیا، جبکہ متعدد درخواستوں کے باوجود اسے Bible بھی فراہم نہیں کی گئی۔
پراسیکیوٹر کا موقف
پراسیکیوٹر Jocelyn Ballantine نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ ملزم نے تفتیش کاروں کو بتایا تھا کہ اسے مبینہ حملے میں زندہ بچنے کی توقع نہیں تھی، اس لیے وہ خودکشی کا خطرہ بن سکتا تھا۔ تاہم جج فاروقی نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے شخص کو پانچ نکاتی بندش میں رکھنا، جس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں، انتہائی تشویشناک ہے۔
جج نے ملزم سے براہ راست مخاطب ہو کر معذرت کی اور یقین دہانی کرائی کہ اس کی رہائش اور دیگر سہولیات کا فوری جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے جیل حکام کو حکم دیا کہ اگلی صبح تک عدالت کو ملزم کی قید کی صورتحال سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔
مزید پڑھئِے


