ایران نے عندیہ دیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں ممالک ایک ممکنہ سمجھوتے کے پہلے سے زیادہ قریب پہنچ چکے ہیں، تاہم ابھی تک کسی باضابطہ معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی گئی۔ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے پیش نظر ایک بار پھر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہو ئی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی (Abbas Araghchi) نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ زیر غور مجوزہ فریم ورک مختلف سرکاری اور سیاسی اداروں کے جائزے کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ قریب آ چکا ہے، تاہم ابھی کسی حتمی معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے ان کے مطابق کسی بھی معاہدے کو حتمی منظوری دینے سے قبل تمام نکات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ مجوزہ منصوبے کو دو الگ مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں ایک مفاہمتی دستاویز پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی، جس کا بنیادی مقصد کشیدگی میں کمی، عسکری سرگرمیوں کا خاتمہ اور خطے میں مستقبل کے تنازعات سے بچاؤ کے لیے ضمانتیں حاصل کرنا ہے۔
دوسرے مرحلے کے مزارات
عراقچی کے مطابق دوسرے مرحلے میں زیادہ پیچیدہ اور اہم معاملات پر مذاکرات ہوں گے، جن میں ایران کے جوہری پروگرام، بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں میں نرمی، بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور دیگر حساس امور شامل ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے حوالے سے بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ آبی گزرگاہ ایران اور عمان (Oman) کی خودمختاری کے دائرے میں رہے گی، البتہ اس کے انتظامی اور سیکیورٹی معاملات سے متعلق مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران امریکا کے ساتھ ماضی کے تجربات کی وجہ سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق مذاکراتی ادوار کے دوران بھی ایسے واقعات پیش آئے جنہوں نے باہمی اعتماد کو نقصان پہنچایا، اس لیے موجودہ تجاویز کو انتہائی باریک بینی سے جانچا جا رہا ہے۔
امریکی موقف
ادھر امریکی حکام نے بھی اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ فریقین کئی اہم معاملات پر پیش رفت کر چکے ہیں اور کسی ممکنہ معاہدے کے لیے فاصلہ کم رہ گیا ہے، اگرچہ چند بنیادی نکات پر ابھی مزید بات چیت درکار ہے۔
امریکی ذرائع کے مطابق زیر غور تجاویز میں ایران کو بعض اقتصادی پابندیوں سے ریلیف اور منجمد مالی وسائل تک رسائی فراہم کرنے کے امکانات شامل ہیں۔ اس کے بدلے تہران سے جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے مزید سخت شرائط قبول کرنے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔
مذید خبریں
فیفا ورلڈ کپ:امریکہ نے ایرانی ٹیم کے لیے انوکھی شرط لگا دی – urdureport.com
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ اگر مذاکرات اسی رفتار سے آگے بڑھتے رہے تو آئندہ چند دنوں میں کسی اہم پیش رفت یا معاہدے کا اعلان سامنے آ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو نہ صرف خطے میں جاری کشیدگی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں اور مالیاتی بازاروں پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے


