امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے CBS News کی صحافی Norah O’Donnell اور پروگرام 60 Minutes پر سخت تنقید کی، جب انہوں نے وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کی تقریب میں فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص کی مبینہ تحریر کے کچھ حصے پڑھ کر سنائے۔
president Trump response on Epstein :
"You should be ashamed of yourself, reading that — because I'm not any of those things." pic.twitter.com/C9hX6wZW43— Urdu Report (@UrduReportpk) April 27, 2026
یہ انٹرویو اس وقت کیا گیا جب حکام نے 31 سالہ مشتبہ حملہ آور کول ایلن کی شناخت ظاہر کی، جس پر الزام ہے کہ اس نے ایک تحریری منشور تیار کیا تھا اور سوشل میڈیا پر ٹرمپ مخالف اور عیسائیت مخالف خیالات بھی شیئر کیے تھے۔
میں ریپسٹ نہیں،ٹرمپ
انٹرویو کے دوران نورا او ڈونل نے اس مبینہ دستاویز کے کچھ حصے پڑھے جن میں "ریپسٹ” اور "پیڈوفائل” جیسے الزامات کا ذکر تھا، اور صدر ٹرمپ سے اس پر ردعمل پوچھا۔
اس پر ٹرمپ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا:
"میں انتظار کر رہا تھا کہ آپ یہ پڑھیں کیونکہ مجھے معلوم تھا آپ ایسا کریں گی، آپ لوگ بہت برے ہیں۔ ہاں، اس نے یہ لکھا، لیکن میں ریپسٹ نہیں ہوں۔ میں نے کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی۔”
جب او ڈونل نے پوچھا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ یہ الزامات ان کے بارے میں ہیں، تو ٹرمپ نے جواب دیا:
"میں پیڈوفائل نہیں ہوں۔ آپ ایک بیمار شخص کی لکھی ہوئی باتیں پڑھ رہی ہیں۔ میرا ان چیزوں سے کوئی تعلق نہیں۔ مجھے مکمل طور پر بری قرار دیا جا چکا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا انہیں غلط طور پر ایسے معاملات سے جوڑ رہا ہے جن کا ان سے کوئی تعلق نہیں، اور صحافی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسی باتیں پڑھنے پر شرم آنی چاہیے۔
اس دوران نورا او ڈونل نے وضاحت کرنے کی کوشش کی کہ وہ صرف مشتبہ حملہ آور کے الفاظ نقل کر رہی ہیں، تاہم ٹرمپ نے انہیں مسلسل "شرمناک” قرار دیا۔
میڈیا سے تعلقات پر ٹرمپ کا ردعمل
انٹرویو کے دوران Donald Trump نے یہ واضح طور پر نہیں بتایا کہ آیا اس فائرنگ کے واقعے کے بعد اُن کے اور مرکزی دھارے کے میڈیا کے تعلقات میں کوئی تبدیلی آئے گی یا نہیں۔
ٹرمپ نے کہا:
"دیکھیں، کسی نہ کسی وجہ سے ہمارا بہت سے معاملات پر اختلاف ہے۔ ہم جرائم کے بارے میں بات کرتے ہیں، میں اس معاملے پر بہت سخت ہوں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ میڈیا نہیں ہے۔ اصل میں یہ صرف میڈیا نہیں بلکہ میڈیا اور ڈیموکریٹس دونوں ہیں، کیونکہ یہ دونوں تقریباً ایک جیسے ہی ہیں۔ یہ ایک عجیب بات ہے۔”
ٹرمپ کا دعویٰ
ٹرمپ اس سے قبل نومبر 2025 میں 60 Minutes میں نظر آئے تھے۔ اس انٹرویو کے ایک طویل ورژن میں انہوں نے پروگرام پر طنز بھی کیا اور کہا کہ CBS News اور اس کی پیرنٹ کمپنی Paramount Global نے انہیں 16 ملین ڈالر ادا کیے تھے۔
یہ رقم اُس مقدمے کے تصفیے کے تحت دی گئی تھی جو ٹرمپ نے اس الزام پر دائر کیا تھا کہ پروگرام نے Kamala Harris کے ایک انٹرویو کو ایڈیٹ کر کے غلط انداز میں پیش کیا۔
ٹرمپ نے انٹرویو میں کہا:
"درحقیقت ‘60 منٹس’ نے مجھے بہت زیادہ رقم دی۔ آپ اسے نشر نہ کریں کیونکہ میں آپ کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتا، اور مجھے یقین ہے کہ آپ ایسا نہیں کریں گے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ اب Bari Weiss کی قیادت میں ادارے کو ایک بہتر رہنما مل گیا ہے، اور وہ اس کے بارے میں اچھی رائے رکھتے ہیں۔
ٹرمپ نے دوبارہ دعویٰ کیا کہ پروگرام کو انہیں بڑی رقم ادا کرنا پڑی کیونکہ اس نے کملا ہیرس کے جواب کو ایسے انداز میں پیش کیا جو ان کے بقول "بہت خراب” تھا۔
یہ انٹرویو اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ یہ اکتوبر 2020 کے بعد پہلی بار تھا جب ٹرمپ نے اپنے پہلے صدارتی دور کے بعد اس پروگرام میں شرکت کی۔
یہ بھی پڑھئِے


