سابق رکنِ قومی اسمبلی شیرافضل مروت نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے طور پر سہیل آفریدی کے انتخاب کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نامزدگی کے عمل میں متعدد قانونی سوالات موجود ہیں جنہیں وہ باقاعدہ طور پر عدالت کے سامنے اٹھائیں گے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیرافضل مروت نے مؤقف اختیار کیا کہ سہیل آفریدی کا بطور وزیراعلیٰ انتخاب آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں ہوا، اسی لیے وہ اس فیصلے کو چیلنج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں سپریم کورٹ واضح طور پر قرار دے چکی ہے کہ کوئی بھی سزا یافتہ شخص جیل میں رہتے ہوئے سیاسی یا انتظامی نوعیت کے احکامات جاری نہیں کر سکتا۔
انہوں نے 2018 کے ایک اہم مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی اسی نوعیت کے معاملے پر عدالت عظمیٰ نے اصول طے کیے تھے، جب سینیٹ ٹکٹوں کی تقسیم سے متعلق کیس زیرِ سماعت آیا تھا۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال بھی انہی قانونی نکات کے تحت دیکھی جانی چاہیے۔
یہ بھی پڑھئِے
ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال نہیں کروں گا،جنگ توسیع ٹرمپ – urdureport.com
پان اور پچکاری کراچی کی ثقافت : عامر سہیل کی وضاحت آگئی – urdureport.com
شیرافضل مروت نے مزید دعویٰ کیا کہ عمران خان کی ہدایت پر سلمان اکرم راجا نے اڈیالہ جیل کے باہر سہیل آفریدی کی نامزدگی کا اعلان کیا، جو ان کے بقول قانونی طور پر قابلِ اعتراض ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس تمام عمل کو عدالت میں چیلنج کریں گے اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلہ آنے کی امید رکھتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ کے منصب پر تقرری ایک سنجیدہ آئینی معاملہ ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی قانونی خامی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔


