محکمہ موسمیات پاکستان نے ملک کے مختلف حصوں کے لیے آئندہ دنوں کی موسمی صورتحال پر ایک اہم الرٹ جاری کیا ہے، جس کے مطابق جنوبی علاقوں میں 29 اپریل سے 3 مئی تک ہلکی شدت کی ہیٹ ویو متوقع ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے بھی 5 مئی تک ملک بھر میں شدید گرمی کے امکانات کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے، اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 27 اپریل کی رات سے 29 اپریل تک اور پھر 3 سے 5 مئی کے دوران بالائی علاقوں میں مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ داخل ہوگا۔ اس سسٹم کے باعث درجہ حرارت میں عارضی طور پر 2 سے 4 ڈگری سینٹی گریڈ تک کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس سے گرمی کی شدت میں کچھ حد تک کمی آسکتی ہے۔
محکمہ موسمیات کی رپورٹ
ماہرین موسمیات نے اپنی رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ مئی سے جولائی کے درمیان ’ایل نینو‘ جیسے موسمی حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ ایک عالمی موسمی رجحان ہے جس میں بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ہواؤں کے نظام، فضائی دباؤ اور بارشوں کے پیٹرن میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
ماضی کے اعداد و شمار کے مطابق یہی رجحان سال 2023 کو تاریخ کے دوسرے گرم ترین سالوں میں شامل کرنے اور 2024 کو اب تک کا گرم ترین سال بنانے میں اہم کردار ادا کر چکا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مئی اور جون سال کے گرم ترین مہینے ہوتے ہیں، جبکہ جنوبی پنجاب، بالائی سندھ اور جنوبی و مشرقی بلوچستان ایسے علاقے ہیں جہاں ہیٹ ویو کے اثرات سب سے زیادہ محسوس کیے جاتے ہیں۔ ان علاقوں میں درجہ حرارت بعض اوقات 52 ڈگری سینٹی گریڈ تک بھی پہنچ جاتا ہے، جبکہ عام حالات میں یہ 43 سے 45 ڈگری کے درمیان رہتا ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال میں یہ درجہ حرارت معمول سے 2 سے 4 ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
محکمہ موسمیات کی اگاہی
ادارے کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے، اور اگر گرمی کی شدت میں مزید اضافہ ہوا تو عوام کو بروقت آگاہ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئِے
پان اور پچکاری کراچی کی ثقافت : عامر سہیل کی وضاحت آگئی – urdureport.com
امریکی اہلکار کا بڑا اسکینڈل: خفیہ معلومات پر شرط لگا کر 4 لاکھ ڈالر کما لیے – urdureport.com
دوسری جانب اقوام متحدہ نے بھی حالیہ دنوں میں خبردار کیا ہے کہ ’ایل نینو‘ کا رجحان 2026 کے وسط تک دوبارہ شدت اختیار کر سکتا ہے، جبکہ بعض موسمی ماڈلز کے مطابق اس کے ابتدائی آثار مئی سے جولائی کے دوران ہی ظاہر ہونا شروع ہو سکتے ہیں۔


