بالی ووڈ کے سینئر اداکار نواز الدین صدیقی نے فلمی صنعت میں پائے جانے والے مسائل پر کھل کر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ رنگت کی بنیاد پر امتیاز اس وقت انڈسٹری کا ایک بڑا اور سنجیدہ مسئلہ ہے، جس پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی۔
ایک حالیہ گفتگو میں نواز الدین صدیقی Nawazuddin Siddiqui نے بتایا کہ اگرچہ بالی ووڈ میں اقربا پروری یعنی نیپوٹزم پر اکثر بحث ہوتی رہتی ہے، لیکن ان کے نزدیک اصل مسئلہ وہ رویہ ہے جس کے تحت خوبصورتی کو صرف گوری رنگت تک محدود کر دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فلموں کی کہانیاں اور کردار اکثر اسی مخصوص معیار کے گرد گھومتے ہیں، جس کے باعث سانولی یا گندمی رنگت رکھنے والے فنکاروں کو نمایاں مواقع کم ملتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خوبصورتی کو کسی ایک پیمانے میں قید نہیں کیا جا سکتا، بلکہ یہ ایک ذاتی اور متنوع تصور ہے جسے ناظرین پر چھوڑ دینا چاہیے۔
ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ متوازی سنیما کے دور میں Smita Patil اور Shabana Azmi جیسی باصلاحیت اداکاراؤں نے اپنی جاندار اداکاری کے ذریعے ایک الگ شناخت بنائی، لیکن آج بھی مرکزی دھارے کی فلموں میں زیادہ تر توجہ مخصوص رنگت اور ظاہری معیار رکھنے والے اداکاروں پر مرکوز رہتی ہے۔
سانولی رنگت والی اداکارائیں
اداکار کے مطابق، فلمی دنیا میں یہ تاثر عام ہے کہ سانولی رنگت رکھنے والی خواتین کو اوسط درجے کا سمجھا جاتا ہے، جبکہ مغربی معاشروں میں اسی رنگت کو منفرد اور پرکشش قرار دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی سوچ کہانیوں کی تشکیل اور کرداروں کے انتخاب میں بھی واضح طور پر نظر آتی ہے۔
Nawazuddin Siddiqui نے مرحوم اداکارہ Smita Patil کو اپنی پسندیدہ اور خوبصورت ترین اداکارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیمرے کی نظر میں خوبصورتی کا تصور مختلف ہوتا ہے، اور اصل فنکار وہی ہے جو اس احساس کو مؤثر انداز میں پیش کر سکے۔
اپنے حالیہ اور آنے والے منصوبوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ وہ حال ہی میں فلم رات اکیلی ہے: دی بنسال مرڈرز اور ٹھما میں نظر آئے، جبکہ مستقبل میں وہ میں ایکٹر نہیں ہوں، نورانی چہرہ اور ٹمبڈ 2 سمیت کئی پراجیکٹس میں جلوہ گر ہوں گے۔
یہ بھی پڑھئِے


