اسلام آباد: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خطے میں تیز رفتار سفارتی مہم شروع کرتے ہوئے ایک نیا فارمولا پیش کیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز Strait of Hormuz کو کھولنے پر فوری توجہ اور جوہری مذاکرات کو مؤخر کرنے کی تجویز شامل ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور جنگ کا خطرہ اب بھی ٹلا نہیں۔

عباس عراقچی کی پوٹن عاصم منیر سے ملاقاتیں
گزشتہ 72 گھنٹوں میں عباس عراقچی Abbas Araghchi نے پاکستان، عمان اور روس کے اہم دورے کیے۔ انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی، جبکہ اسلام آباد میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف عاصم منیر سے اہم بات چیت کی۔ مسقط میں ہونے والے خفیہ مذاکرات میں مختلف ممالک کے اعلیٰ سکیورٹی حکام کی شرکت نے اس معاملے کی حساسیت کو مزید واضح کر دیا ہے۔
روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ روس ایران تنازع کے حل اور خطے میں امن یقینی بنانے میں ثالثی کے لیے تیار ہے۔ روس ایران تنازع کے حل اور خطے میں امن یقینی بنانے میں ثالثی کے لیے تیار ہے۔
روس نے ایران کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ روسی صدر پیوٹن نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو یقین دہانی کروائی ہے کہ ایران اور خطے کے ممالک کے مفادات میں جو ممکن ہوا کریں گے۔
ذرائع کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ پہلے آبنائے ہرمز Strait of Hormuz کو کھول کر عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل بحال کی جائے، جبکہ جوہری پروگرام پر بات چیت کو بعد میں رکھا جائے۔ پاکستان اس پورے عمل میں ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے اور تہران و واشنگٹن کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہا ہے۔
امریکہ کا موقف
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے کی بنیادی شرط یہ ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔ ان کے مطابق ایران کی حالیہ پیشکش ابھی تک امریکہ کے لیے قابل قبول نہیں۔
علاقائی سطح پر بھی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ قطر، سعودی عرب، مصر اور فرانس کے رہنماؤں سے رابطوں کا مقصد ایک وسیع سفارتی حمایت حاصل کرنا ہے۔ خلیجی ممالک خاص طور پر آبنائے ہرمز کی بندش سے متاثر ہیں، کیونکہ اس راستے کی بندش نے ان کی تیل برآمدات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
یہ بھی پڑھئِے
امریکی اہلکار کا بڑا اسکینڈل: خفیہ معلومات پر شرط لگا کر 4 لاکھ ڈالر کما لیے – urdureport.com
عراقچی ماسکو چلے گئے :امریکہ کے لیے تحریرپیغامات پاکستانی قیادت کے حوالے – urdureport.com
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اس بار 2015 کے جوہری معاہدے JCPOA کی ناکامی سے سبق سیکھ کر آگے بڑھ رہا ہے اور ایک ایسا نظام بنانا چاہتا ہے جس میں علاقائی طاقتیں بھی شامل ہوں تاکہ مستقبل میں کسی معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم نہ کیا جا سکے۔
یکم مئی کی تاریخ کیوں اہم ؟
ادھر وقت بھی تیزی سے گزر رہا ہے۔ امریکی قوانین کے تحت صدر ٹرمپ کو یکم مئی تک ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہے، جس کے باعث سفارتی کوششوں پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صورتحال نہایت نازک ہے: ایک طرف جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی کوششیں جاری ہیں، تو دوسری جانب کسی بھی لمحے کشیدگی دوبارہ بھڑک سکتی ہے۔ ایسے میں پاکستان، عمان اور دیگر ممالک کا کردار خطے میں امن کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔


