اپ ڈیٹ سٹوری
بھارتی ریاست تمل ناڈو میں سیاسی جوڑ توڑ اور کئی روز کی غیر یقینی صورتحال کے بعد معروف اداکار اور سیاست دان سی جوزف وجے نے ریاست کے نئے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھا لیا۔
چنئی کے نہرو اسٹیڈیم میں منعقدہ پروقار تقریب میں وجے نے اپنے عہدے کا حلف لیا، جبکہ ان کے ساتھ کابینہ کے نو دیگر ارکان نے بھی ذمہ داریاں سنبھالنے کا عہد کیا۔ تقریب میں کانگریس رہنما راہول گاندھی، فلمی شخصیات اور سیاسی حلقوں سے تعلق رکھنے والی متعدد اہم شخصیات شریک ہوئیں۔
51 سالہ وجے کی سیاسی جماعت تملگا ویترِی کڑگم (ٹی وی کے) نے حالیہ اسمبلی انتخابات میں 234 میں سے 108 نشستیں حاصل کر کے نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔ اگرچہ جماعت واضح اکثریت کے لیے درکار تعداد سے 10 نشستیں کم رہ گئی تھی، تاہم بعد ازاں اتحادی حمایت نے حکومت سازی کی راہ ہموار کر دی۔
انتخابی نتائج سامنے آنے کے فوراً بعد کانگریس نے وجے کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) اور ودھوتلائی چیروتھائیگل کچھی سمیت چند چھوٹی جماعتوں نے بھی ان کی جماعت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا، جس سے انہیں مطلوبہ اکثریت حاصل ہوگئی۔
ریاستی گورنر نے حکومت سازی کے لیے اکثریت کا واضح ثبوت طلب کیا تھا، جس کے بعد وجے نے اتحادی جماعتوں کی حمایت حاصل کر کے اپنی پوزیشن مضبوط کی۔
یوں تمل فلم انڈسٹری کے مقبول ہیرو نے عملی سیاست میں بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ریاست کے اعلیٰ ترین انتظامی منصب تک رسائی حاصل کر لی۔
گزشتہ سے پیوستہ
بھارتی ریاست تمل ناڈو میں فلمی دنیا کے سپر اسٹار اور سیاست دان سی جوزف وجے ایک بار پھر خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ ان کی جماعت تملگا ویٹری کزھگم (TVK) نے حالیہ اسمبلی انتخابات میں غیرمعمولی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 234 میں سے 108 نشستیں جیت لیں، جس کے بعد ریاست کی سیاست میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
تمل ناڈو کی سیاست طویل عرصے سے دو بڑی جماعتوں — دراوڑ منیترا کزھگم اور آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کزھگم — کے گرد گھومتی رہی ہے، لیکن وجے کی جماعت نے اس روایتی سیاسی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
وجے کی جماعت اکثریت حاصل کرنے کے لیے درکار 118 نشستوں سے صرف 10 نشستیں پیچھے رہی، تاہم بعد ازاں مختلف سیاسی جماعتوں کی حمایت سے ان کی پوزیشن مضبوط ہوئی۔
انڈین نیشنل کانگریس نے، جس کے پاس پانچ نشستیں ہیں، نتائج آنے کے چند گھنٹوں بعد ہی وجے کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ اس کے علاوہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) اور ودھوتلائی چیروتھائیگل کچھی نے بھی حمایت کا اعلان کیا، جس سے وجے کے حق میں مطلوبہ عددی اکثریت مکمل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
اس کے باوجود تمل ناڈو کے گورنر راجندر وشواناتھ آرلیکر نے وجے کو فوری طور پر حکومت بنانے کی دعوت دینے سے انکار کرتے ہوئے اکثریت کے واضح ثبوت طلب کیے ہیں۔
وجے نے گزشتہ تین روز میں گورنر سے تین ملاقاتیں کی ہیں اور حکومت سازی کا دعویٰ پیش کیا ہے۔ اس صورتحال نے ریاست میں سیاسی تجسس کو بڑھا دیا ہے۔
سیاسی پنڈتوں کی رائے
سیاسی مبصرین وجے کے برق رفتار سیاسی عروج کا موازنہ تمل سیاست کے لیجنڈ اداکار اور سابق وزیراعلیٰ ایم جی راماچندرن سے کر رہے ہیں، جنہوں نے فلمی شہرت کو سیاسی طاقت میں بدل کر تاریخ رقم کی تھی۔
فلمی دنیا میں تقریباً تین دہائیوں تک راج کرنے والے وجے نے 2024 میں سیاست میں مکمل طور پر قدم رکھنے کے لیے فلموں سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔
مذید پڑھئِں
ٹائم میگیزین 2026 کی 100بااثر شخصیات : فہرست میں کون کون شامل،حیران کن نام – urdureport.com
بلن شاہ : ایک اداکار ریپر سے اٹھ کر وزارت عظمیٰ کیسے سنبھال لی – urdureport.com
ماہرین کے مطابق وجے کی نوجوانوں اور خواتین میں غیرمعمولی مقبولیت ان کی سب سے بڑی سیاسی طاقت ہے، تاہم اصل امتحان اب حکومت سازی اور عملی سیاست میں ان کی صلاحیت کا ہوگا۔
اگر گورنر انہیں حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں اور وہ اسمبلی میں اکثریت ثابت کر لیتے ہیں تو وجے تمل ناڈو کی تاریخ میں فلمی پردے سے اقتدار کے ایوان تک پہنچنے والے ایک اور بڑے نام کے طور پر سامنے آئیں گے۔


