شمالی کوریا کی جانب سے جوہری پالیسی میں مبینہ ترمیم کی خبروں نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے جس کے مطابق اگر شمالی کوریا کے رہنما کو قتل کیا گیا تو فوج کو خود ار ایٹم بم چلانے کا اختیار مل جائے گا۔
۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا نے اپنے آئینی اور دفاعی قوانین میں ایسی شق شامل کی ہے جس کے تحت اگر ملک کے رہنما کم جونگ اُن Kim Jong Un کسی حملے میں ہلاک ہو جائیں یا حکمرانی کے قابل نہ رہیں، تو ملک کا جوہری نظام Atomic systemخودکار طور پر فوری ردعمل دے سکتا ہے۔
برطانوی اخبار دی سن کی رپورٹ کے مطابق یہ ترمیم 22 مارچ کو منظور کی گئی تھی، تاہم اسے حالیہ دنوں میں منظر عام پر لایا گیا۔ نئی شق شمالی کوریا کے جوہری پالیسی قانون کے آرٹیکل 3 میں شامل کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر دشمن قوتوں کے حملے سے ریاست کے جوہری کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو خطرہ لاحق ہو تو خودکار جوہری کارروائی کی جا سکتی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی کوریا کے آئین میں تبدیلی کی گئی ہے کہ اگر ملک کے حکمراں کم جونگ ان کو قتل کیا گیا یا وہ حملے کے باعث حکمرانی کے قابل نہ رہے تو ملک خودکار طور پر فوری جوہری حملہ کردے گا۔
برطانوی اخبار دی سن کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ آئینی ترمیم 22 مارچ کو منظور کی گئی تھی تاہم اسے اب پہلی بار عوام کے سامنے لایا گیا ہے۔
شمالی کوریا نے فیصلہ کیوں کیا؟
تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ تنازعات کو اہم وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا اپنی اعلیٰ قیادت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے دفاعی حکمتِ عملی مزید سخت بنا رہا ہے۔
شمالی کوریا دنیا کے سب سے زیادہ بند ممالک میں شمار ہوتا ہے، جہاں بیرونی دنیا کی رسائی انتہائی محدود ہے اور غیر ملکی سرگرمیوں پر سخت نگرانی کی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے وہاں کی عسکری اور سیاسی معلومات کی آزادانہ تصدیق اکثر مشکل ہوتی ہے۔
دوسری جانب شمالی کوریا نے جنوبی سرحد کے قریب جدید 155 ملی میٹر خودکار توپ خانے کی تعیناتی کا بھی اعلان کیا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق اس نئے ہتھیار کی مار 60 کلومیٹر سے زائد ہے۔
رہنما کم جونگ اُن نے اس نئے دفاعی نظام کا معائنہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہتھیار ملک کی زمینی جنگی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرے گا اور دفاعی قوت کو مزید مضبوط بنائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ پالیسی مکمل طور پر نافذ ہو چکی ہے تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، کیونکہ خودکار جوہری ردعمل کا تصور عالمی سلامتی کے لیے نہایت حساس معاملہ سمجھا جاتا ہے۔
مذید پڑھئِے


